data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد :وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی دعوت ایک مثبت قدم ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملک کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا جا رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت خوش آئند ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ کے مستقبل کے لیے جو بھی روڈ میپ تیار کیا جائے گا، پاکستان اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، فلسطینی ریاست کے دو ریاستی حل پر پوری دنیا متفق ہے اور یہ پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ فلسطینی بھائیوں کی آزادی، حقوق اور نجات کے لیے آواز بلند کرے۔ وزیر اعظم پاکستان اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

فوج بھیجنے کے امکان کے بارے میں سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ اس معاملے پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کریں گے، ایران ہمارا ہمسایہ اور بھائی ہے، اور پاکستان کی حمایت اس بات کے لیے ہے کہ ایران محفوظ رہے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ملک قرار دیا جس سے سب کو خطرہ ہے۔

پاک-سعودی دفاعی معاہدے کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کسی بھی اضافی ملک کی شمولیت کا فیصلہ مشترکہ طور پر کریں گے۔ اس معاہدے میں ترکی یا کوئی اور ملک بھی شامل ہو سکتا ہے اور اسلامی ممالک کو اپنا دفاع مضبوط کرنے کے لیے ایک وسیع دفاعی معاہدہ تشکیل دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی تھی، جسے وزیر دفاع نے پاکستان کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے ایک وزیر دفاع نے کہا

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟