data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سانحہ گل پلازہ، شہر کی ابتر حالت اور اہل کراچی کے سنگین مسائل کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیا ہے اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بہت جلد شہر میں ایک بڑا اور تاریخی ”جینے دو کراچی مارچ“ منعقد کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ جماعت اسلامی اور وہ خود اس شہر کو لاوارث اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وہ خود گلی گلی اور محلوں میں جا کر عوام کی قوت کو جمع کریں گے، کراچی میں کبھی ہمارے بچے گٹروں میں گر کر مررہے ہیں، ہیوی ٹریفک کے نیچے کچلے جارہے ہیں، کبھی بارشوں میں بہہ جاتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ آگ لگتی ہے تو کوئی ریسکیو کرنے والا نہیں ہوتا، سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام اور نا اہل ثابت ہوئی ہے،سانحہ گل پلازہ سے پیپلز پارٹی بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے،سندھ حکومت متاثرین کو ایک ایک کروڑ روپے دے کر جان نہیں چھڑا سکتی، فائر بریگیڈ براہ راست کے ایم سی کے ماتحت ہے،قابض میئر سے سوال تو بنتا ہے کہ آپ ایم یوسی ٹی میں شامل جوفائر ٹیکس وصول کرتے ہیں وہ کہاں جاتا ہے؟ عملے کو وردیاں،کٹس اور دیگر ضروریات کی چیزیں کیوں نہیں فراہم کی جاتیں؟اگر وفاق میں بی بی،ان کے بابا اور چچا شادی سے فارغ ہوگئے ہوں تو اس شہر کو آکر دیکھ لیں کہ اس شہر کی کیا حالت ہوگئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ شہر پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے، لیکن انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے، پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کہاں ہے، پاکستان کے عوام کے فنڈز سے یہ ادارے چلتے ہیں، کوئی ہیلی کاپٹر سروس موجود نہیں تھی، کوئی تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں تھا،الخدمت،سیلانی،چھیپا، ایدھی اور دیگر این جی اوز اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام کررہے تھے، کوئی پانی پلارہا ہے،کوئی لائٹ لگارہا ہے، کوئی لوگوں کو ریسکیو کررہا ہے،جو کام ریاست کے کرنے کا ہے وہ عوام خود کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس شہر کے مسائل حل کرے،بلاول بھٹو پورے دنیا کے سفارتکاروں اور تاجروں کو بلاکر ڈھائی گھنٹے کی پریزینٹیشن تودے رہے ہیں لیکن اہل کراچی کوجینے تک کے حقوق نہیں دیے جارہے، کے فور منصوبہ پندرہ سال سے تاخیر کا شکار ہے، کے تھری منصوبہ،کراچی سرکلر ریلوے، ماس ٹرانزٹ پروگرام کوئی بھی منصوبہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا، بے آرٹی کے نام پر پورے شہر کو کھود کے رکھ دیا ہے، گرین لائن آج تک ادھوری ہے، شہر کو 15ہزار بسوں کی ضرورت ہے اور پانچ ڈبل ڈیکر اور چند سو بسیں لاکر بڑی بڑی باتیں کی جارہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام کو بتایا جائے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وقت پر کیوں نہیں پہنچی، اسنارکل کیوں کام نہیں کررہی تھیں، پانی کیوں دستیاب نہیں تھا، پی پی ایز کہاں تھیں،گاڑیوں کے لیے ڈیزل کیوں دستیاب نہیں تھا؟کیمیکل کیوں دستیاب نہیں تھا؟سندھ حکومت نے ایم کیوایم کے ساتھ مل کر کراچی کے ایک ایک ادارے پر قبضہ کرلیا ہے، اگر عمارتوں کے ذمہ داران بلڈنگ کے ایگزٹ خالی نہیں رکھتے تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے لوگ کس بنیاد پر عمارتوں کو کلیئر کرنے اور این او سی دیتے ہیں،اس لیے کہ ان کو بھتہ ملتا ہے اور بھتے کا یہ نظام ایک ایک ادارے سے ہوتا ہو ا زرداری ہاؤس تک جاتا ہے، پورا مافیا سسٹم اس شہر میں کام کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر کراچی نے چاہا تھا کہ یہاں جماعت اسلامی کا میئر بنے، لیکن اہل کراچی کی میئر شپ چھین کر پیپلز پارٹی کا میئر مسلط کردیا گیا، عام انتخابات میں ایم کیوایم اس شہر میں ایک پولنگ اسٹیشن تک نہیں جیت سکی لیکن اسے درجنوں کے حساب سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں دے دی گئیں، جنہوں نے یہ خرابی پیدا کی ہے انہی کا یہ کام ہے کہ وہ اسے درست کریں۔۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی سندھ حکومت نہیں تھا شہر کو

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی