Jasarat News:
2026-06-02@23:45:46 GMT

مریم نے موقع ضائع کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260120-03-5

 

انصار عباسی

عوام اس وقت شدید معاشی دبائو، مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی اضطراب کے دور سے گزر رہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ بناوٹ اور دکھلاوا ہے۔ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ شادی جیسے بنیادی سماجی فریضے بھی متوسط اور غریب طبقے کے لیے ایک خوف بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو وہ محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک قومی پیغام ہوتا ہے۔

آج کل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات منعقد ہورہی ہیں۔ شادی کی تقریبات میں بارات سے قبل جاتی عمرہ میں مہندی کا فنکشن منعقد کیا گیا، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان تصاویر کے ساتھ ساتھ فنکشن کے مینو کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جن سے واضح طور پر یہ تاثر ملا کہ ون ڈش کی پابندی کی خلاف ورزی کی گئی اور مہمانوں کو مختلف اقسام کے کھانے پیش کیے گئے۔ یہ معاملہ محض ایک شادی کی تقریب کا نہیں بلکہ ایک اصول، ایک مثال اور ایک سوچ کا ہے۔ پنجاب حکومت خود ون ڈش کی پابندی پر زور دیتی ہے، عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، شادی ہال سیل کیے جاتے ہیں، جرمانے عائد ہوتے ہیں، مگر جب بات حکمران طبقے کی آتی ہے تو قانون محض ایک کاغذ بن کر رہ جاتا ہے۔

اس تقریب میں شریک افراد کے ملبوسات بھی عوامی بحث کا موضوع بنے۔ سوشل میڈیا پر فیشن سے واقف حلقوں کا کہنا ہے کہ مریم نواز، ان کی صاحبزادیوں اور جنید صفدر نے جو ملبوسات زیب تن کیے ان کی قیمتیں لاکھوں روپے تھیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا لباس اور جیولری مہنگی ہونے کے باعث سوشل میڈیا کا موضوع بن گئی۔ یاد رہے کہ ہم ایک ایسے بناوٹ اور دکھلاوے والے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے شادیوں اور ملبوسات پر بے پناہ خرچ کیا جاتا ہے۔ یقینا ہر فرد کو اپنی خوشی منانے کا حق حاصل ہے، اور شادی ایک ذاتی معاملہ بھی ہے، لیکن جب کوئی شخصیت عوام کی منتخب نمائندہ ہو، صوبے کی وزیراعلیٰ ہو اور خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کی بات کرتی ہو تو اس کی ذاتی تقریبات بھی عوامی پیغام بن جاتی ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں شادیوں پر غیر معمولی سماجی دبائو پایا جاتا ہے۔ لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، زیور بیچتے ہیں، زمینیں رہن رکھ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘۔ لاکھوں روپے کے جوڑے صرف ایک دن کے لیے بنوائے جاتے ہیں، سیکڑوں افراد کو دعوت دی جاتی ہے، اور کئی خاندان برسوں تک ان اخراجات کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو وہ معاشرے کے لیے ایک طاقتور مثال بن سکتی ہے۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیٹے کی شادی سادہ انداز میں کرتیں، ون ڈش کی پابندی پر خود عمل کرتیں اور غیر ضروری نمود و نمائش سے گریز کرتیں تو یہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہوتا۔ یہ کہا جاتا کہ دیکھیں، اقتدار میں ہونے کے باوجود مریم نواز نے سادگی اپنائی۔ پھر عام آدمی کو بھی حوصلہ ملتا کہ وہ معاشرتی دبائو کو نظرانداز کر کے سادہ شادی کر سکتا۔ والدین اپنی بچیوں کی شادی قرض کے بغیر کرنے کا حوصلہ پاتے۔ نوجوان نسل یہ سمجھتی کہ خوشی کا تعلق اخراجات سے نہیں بلکہ نیت اور رشتے کی مضبوطی سے ہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ جو تصاویر سامنے آئیں، انہوں نے سادگی کے بیانیے کو کمزور کر دیا۔ یہ وہی سادگی ہے جس کا درس عوام کو دیا جاتا ہے، مگر جس پر عمل حکمران طبقہ خود کرنے سے گریز کرتا دکھائی دیتا ہے۔

مریم نواز کے پاس بطور حکمران یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی قیادت کا کردار ادا کرتیں۔ وہ ایسی مثال قائم کر سکتی تھیں جس کا حوالہ برسوں دیا جاتا۔ مگر یہ موقع ضائع ہو گیا۔ قوم کو آج تقاریر سے زیادہ مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو نعرے نہیں، عملی رویے درکار ہیں۔ اگر حکمران خود سادگی اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔ (بشکریہ: روزنامہ جنگ)

انصار عباسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ مریم نواز جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان