حکومت سانحہ گل پلازا کے متاثرین کی مکمل داد رسی کرے‘ جماعت اہلسنّت
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اہلسنّت پاکستان کے مرکزی امیر پروفیسر سید مظہر سعید شاہ کاظمی‘ مرکزی ناظم پیر خالد سلطان القادری‘ صوبہ سندھ کے امیر پیر سید سردار علی شاہ جیلانی‘ ڈاکٹر سید عبدالوہاب قادری‘ مولانا ابرار احمد رحمانی‘ پیر سید عبدالقادر شاہ شیرازی‘ مفتی بلال قادری‘ علامہ کامران رضوی‘ علامہ محمد اسحاق خلیلی‘ مولانا الطاف قادری نے گل پلازا آتشزدگی میں جاں بحق افراد کے ورثاء سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ د کھ کے اس وقت میں اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت حوصلہ کے ساتھ یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ انہوں نے گل پلازا میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر بھی افسوس اور متاثرین سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ حکومت متاثرین کی مکمل دادرسی کرے۔ انہوں نے کہا کہ شاپنگ مال میں اتنے بڑے پیمانے پر آتشزدگی، امدادی کاموں میں تاخیر و سست رَوی پر بھی شفاف و غیر جانبدارانہ انکوائری ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔