اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا اپنے وکیل چودھری شعیب احمد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے قبل لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے جبکہ اب الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لے لیا ہے۔
وکیل کے مطابق اسلام آباد میں 2015 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جن کی پانچ سالہ مدت مکمل ہو چکی ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد لازم ہے اس لیے الیکشن شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے کر فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے یہ استدعا بھی کی گئی کہ مرکزی کیس 27 جنوری کو مقرر ہے، اس وقت تک الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے تاہم عدالت نے فوری حکمِ امتناع جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات انتخابات کا شیڈول واپس اسلام آباد
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔