اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن چیلنج WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا اپنے وکیل چودھری شعیب احمد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے قبل لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے جبکہ اب الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لے لیا ہے۔
وکیل کے مطابق اسلام آباد میں 2015 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جن کی پانچ سالہ مدت مکمل ہو چکی ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد لازم ہے اس لیے الیکشن شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے کر فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے یہ استدعا بھی کی گئی کہ مرکزی کیس 27 جنوری کو مقرر ہے، اس وقت تک الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے تاہم عدالت نے فوری حکمِ امتناع جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، لاپتہ افراد کی فہرست 81 تک پہنچ گئی سانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، لاپتہ افراد کی فہرست 81 تک پہنچ گئی پارلیمنٹ ہا ئو س میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا ساتھ دینے کا عندیہ ایف ڈی ای انٹر اسکول ہاکی ٹورنامنٹ کا فائنل، ٹیم سی کی شاندار کامیابی ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قائمہ کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ اور اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے کے مجوزہ بل کی منظوری دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس میں بلدیاتی انتخابات کا نوٹیفکیشن اسلام آباد
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔