آپ کے کچھ شکوے آج کے ہیں اور ہمارے کل کے ہیں: رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاست سیاستدانوں کو ہی کرنی چاہیے، 1990 کی دہائی میں دو سیاسی خاندانوں کی لڑائی میں ایک دہائی گزر گئی، تاہم بعد ازاں ان دونوں سیاسی خاندانوں نے مل کر چارٹر آف ڈیموکریسی کیا۔
سینیٹ کے اجلاس میں حکومتی رہنما رانا ثنا اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہی عدالتِ عظمیٰ تھی جس نے اس وقت ایک فیصلہ کیا تھا، فیصلہ یہ تھا کہ آپ نے تنخواہ نہیں لی لیکن لے سکتے تھے، اس لیے آپ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سے ہٹ جائیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا چار چار ماہ کے دھرنے اسٹیبلشمنٹ نے دیے تھے؟ ایک دن دو صاحبان یہ کہہ رہے تھے کہ ہم وزیراعظم کو گھسیٹ کر ایوان سے باہر نکالیں گے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہی وزیراعظم بعد میں ان دونوں صاحبان کو فون کر کے کہہ رہے تھے کہ قوم کو ہماری ضرورت ہے، وزیراعظم نے بغیر کسی شرط کے مل بیٹھ کر بات کرنے کا کہا اور بجٹ والے دن وزیراعظم خود اپوزیشن کے بینچوں پر گئے اور ان سے ملاقات کی، آپ کے کچھ گلے شکوے آج کے ہیں اور ہمارے کل کے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ کے ہیں
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔