Nawaiwaqt:
2026-06-03@01:24:08 GMT

چین زراعت میں ہر ممکن مدد کیلئے تیار: وزیراعظم

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

چین زراعت میں ہر ممکن مدد کیلئے تیار: وزیراعظم

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے زراعت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت مختلف شعبوں میں چین کی ترقی کو مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرکے سالوں میں نہیں مہینوں میں کمال کر سکتا ہے۔ نوجوان ہمارا مستقبل اور آنے والے کل کی امید ہیں، چین پاکستان کا آزمودہ دوست اور زراعت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہے۔ پاکستان کی معیشت استحکام کے بعد پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے، سی پیک 2.

0 کو حقیقت اور کامیابی میں ڈھالیں گے، چین سے جدید زراعت کی تربیت حاصل کرنے والے ایک ہزار زرعی گریجویٹس زرعی معیشت کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رانا تنویر حسین، جام کمال، اویس لغاری، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ سمیت وفاقی وزراء ، وزراء مملکت، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے زراعت کو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں وسیع مواقع موجود ہیں، جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر پیداوار بڑھانا ہوگی، اس سلسلے میں کچھ کامیابیاں حاصل کیں ہیں، بہت کرنا باقی ہے، سائنسدانوں اور زرعی ماہرین کو پانی کے بہترین استعمال، کاشتکاری کے جدید طریقوں کو بروئے کار لانا ہوگا اور ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو یقینی بنانا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کو بہترین مہارتیں اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ 2024ء اور 2025ء میں چین میں بی ٹو بی اور جی ٹو جی مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا، ان ایم او یوزکو پاکستان اور چین کے کاروباری ادارے مل کر عملی معاہدوں میں بدل رہے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو ملک بھر سے میرٹ پر منتخب کر کے چین کی زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز میں بھجوایا جہاں انہوں نے بہترین معیار کی تربیت اور مہارتیں حاصل کیں، وہ یہاں آ کر کسانوں کی مدد کریں گے۔ ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرکے زرعی معیشت کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ انہوں نے چینی سفیر کی تقریر کو سراہتے ہوئے پاکستانی کسانوں، زرعی اداروں اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں، اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور وہ کمال کر دکھائیں جس کی پاکستان کی زرعی معیشت کو ضرورت ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں وہ صلاحیت ہے کہ ہم اپنی زرعی معیشت کو سالوں میں نہیں مہینوں میں بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے افراط زر، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافے اور معاشی اشاریوں میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے بعد پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔ پاکستان چینیوں کا اور چین پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے۔ دونوں ممالک کی دوستی فولاد سے مضبوط اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی آبادی کو ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک بڑا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں میں بڑی صلاحیتیں موجود ہیں، انہیں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں، اگر ان کی صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں تو معیشت کو سالوں میں نہیں مہینوں میں بدل سکتے ہیں۔ قبل ازیں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معیشت کی گزشتہ سال 3 فیصد سے زائد ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 3.71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، کئی اہم معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، مہنگائی کی شرح 4 فیصد پر برقرار، عوام کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔ کرنٹ اکائونٹ سرپلس 2.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب امریکی ڈالر ہو گئے ہیں جس پر میں وزیراعظم شہباز شریف اور برادر پاکستانی عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ 2026ء میں چین 15 واں پانچ سالہ منصوبہ تیار اور اس پر عملدرآمد کرے گا۔ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کو تیز کریں گے، صدر شی جن پنگ، پاکستان کے صدر و وزیراعظم کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر مکمل عملدرآمد کریں گے، سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی تعاون اور حفاظتی انتظامات کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی ثابت قدم جد وجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے زرعی شعبہ میں تعاون کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہدف دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب امریکی ڈالر تک لے جانا ہے، چین کے ساتھ زرعی مصنوعات میں پاکستان کے تجارتی سرپلس کو برقرار رکھنا ہے۔ جدید زراعت میں تعاون کو وسعت دیں گے، پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی ترقی کی سمت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گے، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھائیں گے۔ تقریب میں پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں دونوں ممالک کے تجارتی، سفارتی اور برادرانہ تعلقات کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا۔ اُدھر کانفرنس میں 115 چینی اور 165 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں جدید زرعی طریقوں اور تحقیق کے ذریعے پاک چین معاشی و تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں زرعی شعبے میں جدت پسندی اور چینی سرمایہ کاری کا فروغ پاکستان کو ایک زرعی قوت بنانے کے لئے اہم قرار دیا گیا۔ شرکاء نے چین کو پاکستان کا مخلص اور آزمودہ دوست قرار دیتے ہوئے دو طرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ شرکاء نے کہا کہ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو رہا ہے۔ چین نے اقتصادی ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کانفرنس کے دوران چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گہا۔کانفرنس میں پاک چین ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: قرار دیتے ہوئے کہا میں پاکستان پاکستان کی میں چین نے والے چین کے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار