لاہور:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کیلئے کسی بھی قسم کا نرم گوشہ ملکی مفاد کے خلاف ہے، پی ٹی آئی نے ملک میں انتشار کی سیاست اور گالی کے کلچر کو فروغ دیا، ٹی ٹی پی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز (پی ایف یو سی) کے عہدیداران کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی بیانیے کے خلاف شر انگیزی پھیلانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، معرکہ حق میں فتح پر بھارت ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے،ملکی سلامتی کیلئے پاک فوج قربانیوں کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہے۔

اس موقع پر معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ، صحافی عبد المجید ساجد،تجزیہ نگار نجم ولی خان، چیئرمین پی ایف یو سی فرخ شہباز، مرکزی صدر فرید رزاقی،سیکرٹری جنرل محمد وقار اسلم، سینئر نائب صدر محمد علی،عمر جنجوعہ اسلام آباد چیپٹر، نائب صدر تنظیمی امور اظہر تھراج، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سعدیہ خالد،نائب صدر آر اینڈ ڈی ڈاکٹر شہباز عباسی، ترجمان مرکزی صدر ندیم مشتاق میو،صدر و یمن ونگ مہوش فضل جٹ،جوائنٹ سیکرٹری روزینہ فیصل،صدر پنجاب رضوان اللہ خان،صدر سندھ اختر ایوب خان،صدر آزاد کشمیر ڈاکٹر عثمان غنی، صدر خیبر پختونخوا عالم زیب وزیر،صدر بلوچستان زردار کاکڑ سمیت دیگر نمائندگان موجود تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ معاشرے میں صحافیوں کا کردار جمہوری عمل کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،حکومت صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہے اور ان کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے کیونکہ جس معاشرے میں اختلاف رائے نہ ہو،وہ معاشرہ خود بخود زوال کی طرف بڑھ جاتا ہے،تاہم آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جا سکتی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری،اخلاقیات اور پیشہ ورانہ اقدار کا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ بے لگام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز معاشرتی انتشار اور گمراہ کن بیانیے کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت جدید صحافت کے فروغ کیلئے میڈیا کے اداروں کے ساتھ مل کر صحافیوں کو عالمی سطح کی تربیت اور سکالرشپس کی فراہمی کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے اور تنقید اگر اصلاح کی نیت سے ہو تو اسے خوش دلی سے قبول کیا جانا چاہیے۔عطا ءاللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کی تیز رفتار ترقی کے باوجود اس کیلئے کوئی واضح ادارہ جاتی ڈھانچہ یا تحفظاتی نظام موجود نہیں،جس کے باعث صحافت اور غیر ذمہ دار مواد کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر فرد جو موبائل فون رکھتا ہے خود کو صحافی یا تجزیہ کار سمجھنے لگا ہے،جس سے پیشہ ورانہ صحافت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔وفاقی وزیر نے پیکا قانون کے تحت مجوزہ ریگولیٹری اداروں کے قیام کے حوالے سے کہا کہ تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل اور متوازن نظام وضع کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزارتِ اطلاعات کا مقصد صحافت کو فروغ دینا ہے نہ کہ اظہارِ رائے پر قدغن لگانا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل تصادم نہیں بلکہ بات چیت ہے اور وہ اپنی ذات، جماعت اور قیادت پر کی جانے والی تعمیری تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ڈیجیٹل صحافیوں کے روزگار اور تحفظ کے حوالے سے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آن لائن میڈیا سے وابستہ کارکنان کیلئے کسی قسم کا قانونی تحفظ موجود نہیں جس کی وجہ سے متعدد صحافی بے روزگار ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایسے متاثرہ صحافیوں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کئے ہیں اور ڈیجیٹل یونین کے قیام کی حمایت بھی کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز پر ٹیکس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادا کرتا ہے،اسی طرح آن لائن پلیٹ فارمز سے بھاری آمدن حاصل کرنے والوں کو بھی قومی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

انہوں نے مرحوم صحافیوں اور ادیبوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قلم کار اپنے خیالات اور تحریروں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور موجودہ دور کے لکھاریوں اور کالم نگاروں کی قدر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔میڈیا اداروں کے مالی مسائل پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزارت سنبھالنے کے پہلے ہفتے ہی تقریبا ڈیڑھ ارب روپے کے بقایاجات کلیئر کئے گئے۔انہوں نے میڈیا مالکان پر زور دیا کہ ادائیگیوں کا فائدہ براہِ راست صحافیوں اور میڈیا ورکرز تک پہنچنا چاہیے۔عطا اللہ تارڑ نے صحافیوں اور کریئیٹرز کیلئے تربیتی پروگرامز،اسکالرشپس اور تحقیقی مواقع کی فراہمی کے حوالے سے کہا کہ یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(UNDP) اور انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن(IBA) کراچی کے تعاون سے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد محمد نواز شریف اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ہمیشہ سیاست میں رواداری کو فروغ دیا،ہم نے جب حکومت سنبھالی ملکی مفادات کیلئے مفاہمت کو ترجیح دی،انتخابی مہم کے دوران جب بانی پی ٹی آئی اسٹیج سے گر کر زخمی ہوئے تو ہمارے قائدین ان کی تیمارداری کیلئے انتخابی مہم چھوڑ کر ہسپتال گئے اور رواداری کی سیاست کو فروغ دیا جبکہ پی ٹی آئی نے ملک میں نفرت، گالی اور انتشار کی سیاست کو پروان چڑھایا،پی ٹی آئی والوں کی سوچ محدود اور رویہ افسوسناک ہے،سیاسی اختلاف کی آڑ میں خواتین پر کیچڑ اچھالنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے اور یہ طرزِ عمل کسی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا، خیبر پختونخو ا میں پی ٹی آئی کی کارکردگی صفرہے،صوبہ کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،وزیراعلی خیبرپختونخوا نعرہ لگاتے ہیں ،عشق بانی پی ٹی آئی میں مارا جائوں گا جس پر ہنسی آتی ہے،صوبے میں ان کی کارکردگی صفر ہے،صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر و دیگر شعبوں کی حالت ابتر ہے،پوچھا جائے کہ عوامی شعبوں میں کیا اصلاحات کیں،ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا،حالت یہ ہے کہ ان کے وزیر تک خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں اپنا علاج نہیں کراتے،پی کے ایل آئی،کارڈیالوجی سمیت دیگر پنجاب کے ہسپتالوں میں اکثریت خیبر پختونخوا سے آئے مریضوں کی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی درجنوں یونیورسٹیوں میں عملہ موجود نہیں،کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں خواتین کیلئے ایک بھی کالج موجود نہیں،کوہستان سے اربوں روپے کی کرپشن کے اسکینڈل سامنے آتے ہیں لیکن پی ٹی آئی انتشار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گرودں کی پشت پناہی کرتی ہے،ان کا سارا فوکس ہے کہ دہشت گردوں کو کچھ نہ کہو۔انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کسی میں جرات ہے تو وہ دہشت گردی جیسے اصل اور سنگین مسئلے پر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرے۔ وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے اور ریاست دہشت گردوں کا آخری دم تک تعاقب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ اور اعتماد افواجِ پاکستان،سکیورٹی اداروں اور ان جوانوں پر مکمل یقین کا نتیجہ ہے جو ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کے دفاع کیلئے گھروں سے نکلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کی ہرزہ سرائی ہرگز قبول نہیں،قومی بیانیے کے خلاف شر انگیزی پھیلانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی بیانیے کے خلاف کسی بھی قسم کی گفتگو،ابہام یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ دہشت گردی کے معاملے پر ابہام دراصل دہشت گردوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کیلئے کسی بھی قسم کا نرم گوشہ یا رعایت پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی تحریکیں چاہے سو بار چلائی جائیں مگر پاکستان کے استحکام اور قومی بیانیے کے خلاف کسی قسم کی بات یا عمل کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ کاوشوں سے ملکی معیشت بہتری کی جانب رواں دواں ہے،آج پاکستان کے ساتھ اہم دفاعی اور معاشی معاہدے طے پا رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معرکہ حق میں شاندار فتح پر بھارت آج بھی اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشرتی ترقی کیلئے تخلیقی سوچ،علم اور شعور کے فروغ کی ضرورت ہے اور حکومت صحافی برادری کے ساتھ ملکر اس مقصد کے حصول کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا ءاللہ تارڑ نے پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز (پی ایف یو سی) کے نو منتخب عہدیداران سے حلف لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی بیانیے کے خلاف اللہ تارڑ نے کہا انہوں نے کہا کہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کو فروغ دیا موجود نہیں نے کہا کہ ا کرتے ہوئے اداروں کے پی ٹی ا ئی کے ساتھ جائے گا کہ دہشت کیا جا اور ان ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست