لیسکو میں سولر گرین میٹرز کی تنصیب پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزارتِ توانائی کی ہدایت پر لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے سولر گرین میٹرز(solar green meter) کی تنصیب پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے.جس کے نتیجے میں ہزاروں گھریلو اور صنعتی صارفین سولر گرین میٹر کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔لیسکو حکام کے مطابق نیپرا کی جانب سے سولر گرین میٹر لگانے کی اجازت اور ہدایات موجود تھیں.
لیسکو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ وزارتِ توانائی کے احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں.اسی لیے فوری طور پر سولر گرین میٹرز کی تنصیب معطل کر دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ایک سے دو ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ اس دوران نئی سولر گرین میٹر پالیسی مرتب کیے جانے کا امکان ہے۔ نئی پالیسی کے اجراء کے بعد ہی گرین میٹرز کی تنصیب کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔لیسکو حکام کے مطابق پابندی کے باعث وہ صارفین بھی متاثر ہوں گے جنہوں نے پہلے ہی سولر سسٹم نصب کر رکھا ہے اور گرین میٹر کے لیے درخواستیں جمع کرا دی تھیں۔ ان صارفین کو اب نئی پالیسی کے اعلان تک انتظار کرنا ہوگا۔ذرائع کے مطابق لیسکو نے نہ صرف گھریلو بلکہ صنعتی صارفین کے لیے بھی سولر گرین میٹرز لگانا بند کر دیا ہے. جس سے صنعتی شعبے میں توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کو بھی وقتی دھچکا لگا ہے۔لیسکو حکام کا مزید کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف لیسکو تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کی تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے بھی سولر کنکشن اور گرین میٹرز کی تنصیب روک دی ہے۔توانائی ماہرین کے مطابق سولر گرین میٹرز کی تنصیب پر پابندی سے صارفین میں بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ مہنگی بجلی کے باعث بڑی تعداد میں صارفین شمسی توانائی کی طرف منتقل ہو رہے تھے۔صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی پالیسی جلد از جلد واضح کی جائے. تاکہ سولر توانائی کے منصوبے التوا کا شکار نہ ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گرین میٹرز کی تنصیب سولر گرین میٹرز سولر گرین میٹر کے مطابق
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔