Jasarat News:
2026-07-24@14:35:08 GMT

بھارت: میلے میں خوفناک حادثہ، جھولا ٹوٹنے سے 14 طلبا زخمی

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت: ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوا میں منعقد ہونے والے ایک مقامی میلے کی خوشیاں اس وقت ماتم میں بدل گئیں جب تفریح کے لیے نصب ایک بڑا جھولا اچانک ٹوٹ کر زمین بوس ہو گیا، جس کے نتیجے میں سرکاری اسکول کے 14 طلبا زخمی ہو گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پیر کے روز جھابوا میں منعقد ہونے والے ’’مہاراج نو میلو‘‘ کے دوران پیش آیا، جہاں نصب کیا گیا ’’ڈریگن سوئنگ‘‘ نامی جھولا دورانِ آپریشن اچانک اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور سوار بچوں سمیت نیچے آ گرا۔ حادثے میں زخمی ہونے والوں میں 13 طالبات اور ایک طالب علم شامل ہیں، جن کا تعلق گورنمنٹ اسکول آف ایکسیلینس سے بتایا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق واقعے کے فوراً بعد میلے میں موجود افراد اور انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمی بچوں کو فوری طور پر جھابوا ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال میں ابتدائی طبی معائنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ زیادہ تر طلبا کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، تاہم دو طالبات کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہے، جن پر ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی جاری ہے، ضرورت پڑنے پر انہیں آئی سی یو منتقل کیا جا سکتا ہے۔

ضلع کلکٹر نیہا مینا نے اسپتال کا دورہ کیا اور زخمی بچوں سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک انتظامی ٹیم کو جائے وقوعہ پر بھیج دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جھولے کے آپریشن یا حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عینی شاہدین کے مطابق جھولا تیزی سے حرکت میں تھا کہ اچانک اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ بچوں سمیت زمین پر آ گرا۔ میلے میں موجود لوگوں نے فوری طور پر زخمی بچوں کو جھولے سے نکالا اور ایمبولینس کی آمد تک ابتدائی امداد فراہم کی۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔

Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN

— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026

زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے

ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن

متعلقہ مضامین

  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق