فروری سے ریاست کیجانب سے جبری گمشدگی نہیں، قانونی فریم ورک ہوگا، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفرز بگٹی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے پر ریاست کیخلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے ختم کرینگے۔ فروری سے مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا قانونی فریم ورک ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے کو طویل عرصے سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا، حالانکہ ملک کے دیگر صوبوں بالخصوص خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کے کیسز بلوچستان سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بعض عناصر اور جماعتیں اس حساس معاملے پر محض سیاست کرتی رہیں، مگر مسئلے کے مستقل اور قانونی حل کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے 22ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبے کے انتظامی، قانونی، سماجی، تعلیمی اور ترقیاتی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے اور کئی کلیدی قوانین اور رولز کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت، کابینہ، اراکین اسمبلی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون بلوچستان اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یکم فروری کے بعد ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہوگی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے، جس سے ریاست پاکستان پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات اور اس بنیاد پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تفتیش اور پوچھ گچھ کرتی ہیں۔ مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے۔ تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں ایک لیگل فریم ورک موجود ہوگا۔ اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے، تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کرکے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس رجحان کے تدارک کے لیے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن ایکٹ (ڈبل ون ٹیٹرا ای) منظور کیا گیا ہے اور صوبائی کابینہ نے اس کے رولز 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت قائم کردہ مخصوص مراکز میں مشتبہ افراد سے مجاز پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش ہوگی، ساتھ ہی ان کی کونسلنگ بھی کی جائے گی تاکہ انتہاء پسندی، گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔ زیر تفتیش افراد کے اہل خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، ملاقات کی اجازت ہوگی، طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو ان مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ جس بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تفتیش کرنی ہوئی وہ اسی مراکز میں کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایک ایسے مسئلے کو حل کیا۔ جس پر برسوں سیاست کی جاتی رہی، اب وہ لوگ جو اس معاملے پر سیاست چمکاتے تھے ان کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو رہی ہے۔ اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے بلوچستان وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں گواہان کے تحفظ کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث دہشت گردی اور سنگین جرائم میں سزاؤں کی شرح ایک سے دو فیصد تھی۔ نئی اصلاحات کے تحت "فیس لیس" کورٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں گواہان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رہے گی اور جج کے سوا کسی پر شناخت واضح نہیں ہوگی۔ جس سے انصاف کی فراہمی مؤثر اور بروقت ہوگی اور سزاؤں کی شرح میں پچاس تا ساٹھ فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔
اجلاس میں محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور دیگر محکموں میں بھی مرحلہ وار ڈیجیٹلائزڈ بھرتیوں پر اتفاق کیا گیا۔ صوبائی کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے اور اس کے ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کرنے کی منظوری دی صوبائی کابینہ نے دو نئے ڈویژن پشین اور کوہِ سلیمان کے قیام، زیارت کو انتظامی طور پر لورالائی کا حصہ بنانے، ضلع پشین میں میونسپل کمیٹی کربلا کے قیام، لاء افسران کی ایوالوشن پالیسی، محکمہ اقلیتی امور میں گرانٹ ان ایڈ ترمیمی پالیسی، چائلڈ لیبر کے خاتمے، ہائیر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو لازمی سروس قرار دینے اور کنٹریکٹ اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے فیصلے بھی کئے۔ وزیراعلیٰ نے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو حال ہی میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق کا ٹاسک دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور اس عمل کا آغاز نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی سے کیا جائے۔
اجلاس میں قومی نصاب کو تعلیمی سال 27-2026 سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانے، چیف منسٹر اکیڈمک ایکسیلینس پروگرام کے تحت مڈل، ہائی و ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں ریاضی، سائنس اور انگریزی کے اساتذہ کی ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ صوبائی کابینہ نے سماجی شعبے میں ایک اور اہم پیشرفت کرتے ہوئے بلوچستان تحفظ و فروغ تولیدی صحت حقوق بل 2026 کی منظوری بھی دے دی۔ اس قانون سازی کا مقصد صوبے میں ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو مؤثر اور قابل رسائی بنانا اور تولیدی صحت سے متعلق بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ صوبائی کابینہ نے سلیم میڈیکل کمپلیکس سے امداد چوک اور ٹیکسی اسٹینڈ سے لیاقت اسکوائر تک فوڈ اسٹریٹ قائم کرنے کے منصوبے کا جائزہ لینے کیلئے سیکرٹریز سطح کی کمیٹی قائم کردی، جو منصوبے کے قابل عمل ہونے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے تمام فیصلوں کو گڈ گورننس کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر قانون سازی اور بروقت عملدرآمد کے ذریعے ہی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی کابینہ نے سرفراز بگٹی کرتے ہوئے کی منظوری نے کہا کہ مسئلے کو انہوں نے بگٹی نے کیا گیا گی اور کے لیے اور اس
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔