راجا ناصر عباس کی ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سوالات اٹھنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راجا ناصر عباس کے ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
قانونی ماہرین اور مبصرین کے مطابق راجا ناصر عباس کا اس کیس سے نہ کوئی آئینی تعلق ہے اور نہ ہی قانونی اختیار، پھر بھی ان کی جانب سے حمایت پر بحث جاری ہے۔
مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور شوہر کے خلاف پیکا کے تحت عدالتی کارروائی میں نرمی پر تنقید
سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ مؤقف ایک ایسے فرد کے لیے اپنایا گیا ہے جس پر انتشار، ادارہ مخالف بیانیے اور افراتفری کو ہوا دینے کے الزامات لگ چکے ہیں، یا یہ صرف اس لیے ہے کہ ملزمہ ایک پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی سیاستدان کی صاحبزادی ہیں، جہاں قانون اور میرٹ ثانوی ہو گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ راجا ناصر عباس کا منصب پارلیمانی سیاست تک محدود ہے اور کسی زیرِ سماعت عدالتی کیس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اگر مؤقف صرف اس بنیاد پر اپنایا گیا کہ ملزمہ کا تعلق سیاسی گھرانے سے ہے، تو یہ قانونی اصول کی پامالی کے مترادف ہے اور عوام میں خدشہ پیدا کرتا ہے کہ معاملہ فرقہ وارانہ ہمدردی کا رنگ اختیار کر سکتا ہے۔
سینیٹ کی اپوزیشن لیڈر شپ کے اس استعمال پر بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اقدام ایک ایسے کیس میں کیا گیا ہے جس سے قائدِ حزبِ اختلاف کا کوئی آئینی تعلق نہیں۔
مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ، گرفتاری کا حکم
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قانونی اصول اور میرٹ کو پس پشت ڈال دیا جائے تو عوام کو حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ مداخلت کے پیچھے سیاست ہے یا فرقہ وارانہ ہمدردی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اپوزیشن لیڈر سینیٹ ایمان مزاری علامہ ناصر عباس کیس میں مداخلت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر سینیٹ ایمان مزاری علامہ ناصر عباس کیس میں مداخلت وی نیوز کیس میں مداخلت ایمان مزاری
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی