وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب اور لاہور ڈیولپمنٹ پلان کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جس دوران انہوں نے پنجاب کے تمام شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کو سٹی گیٹ ویز میں تبدیل کرنے اور پورے صوبے کا فرسٹ امپریشن بہتر بنانے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ہر ترقیاتی پراجیکٹ کی جیو ٹیگنگ اور شہروں کی سجاوٹ کی براہ راست مانیٹرنگ کرنے کا حکم دیا، اور کہاکہ ہر منصوبے میں بیوٹی فکیشن پلان لازمی ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کا بڑا اعلان، پنجاب کے 59 شہروں میں ترقیاتی منصوبے شروع

انہوں نے اوور ہیڈ برجز کے نیچے منی پارکس اور پلے ایریاز بنانے، سیوریج اور ڈرینج منصوبوں کی کھدائی کے بعد سڑکوں کی تعمیر و بحالی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کیں تاکہ پنجاب کے عوام دھول اور مٹی سے محفوظ رہ سکیں۔

وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ شہروں میں کھلے مین ہول ڈھانپیں اور ہر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی جیو ٹیگنگ کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیولپمنٹ پلان کے پہلے فیز کے منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں اور دوسرے فیز پر کام جاری ہے۔ ہر ڈی سی آفس میں کنٹرول روم اور مینجمنٹ سیل قائم کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں تاکہ منصوبوں کی شفاف مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔ پہلے فیز کے منصوبوں میں 28 کروڑ روپے کے فنڈز کی بچت ہوئی۔

حکام کے مطابق پنجاب ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے تحت سات شہروں میں 23 ارب 40 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ سرگودھا، ڈی جی خان، گجرات اور جھنگ میں سیوریج، ڈسپوزل، ڈرینج اور واٹر اسٹوریج ٹینک تعمیر کیے جائیں گے۔

’جہلم، حافظ آباد اور اوکاڑہ میں ٹرنک سیوریج، نئے ڈسپوزل اور بارش کے پانی کے نکاس کے لیے ڈرینج سسٹم بنایا جائے گا۔ منصوبوں کے لیے 526 مشینری یونٹ فراہم کیے جائیں گے اور فیز دو میں 8 شہروں میں سیوریج، ڈرینج، واٹر ٹینک اور دیگر ترقیاتی کام مکمل کیے جائیں گے۔‘

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہاکہ کھودے گئے گڑھوں کو حفاظتی تار سے ڈھانپنا ضروری ہے اور ہر روڈ پر مین ہول کا لیول اتنا ہموار ہونا چاہیے کہ عوام کو نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب بھر میں ترقیاتی منصوبوں کا معیار یکساں ہونا چاہیے اور فٹ پاتھ و سڑکوں کے اطراف یکساں ڈیزائن اور کلر کی ٹائلیں لگائی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے ہر شہر میں گرین بیلٹ اور گرین اسپیس بنانے، ایک ہی یوٹیلیٹی کوریڈور بنانے، بجلی کے پولز اور وائرنگ منظم انداز میں لگانے، اور تحصیلوں میں بھی سٹریٹ لائٹس نصب کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوپن ایئر جم، واکنگ ٹریک، چھوٹے فوڈ کورٹ اور تفریحی مقامات بنائے جائیں اور نجی و سرکاری عمارتوں کے فائر سیفٹی سسٹمز کا آڈٹ بھی کیا جائے۔

مزید پڑھیں: پہلی مرتبہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا محور صرف لاہور یا بڑے شہر نہیں، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف

انہوں نے مزید کہاکہ پی ڈی پی کے تحت نئے مین ہولز لگائے جا رہے ہیں اور کھلے مین ہولز بند کیے جائیں گے، سڑک کھودنے کے بغیر منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا، انہوں نے ہدایت کی کہ ہر منصوبے میں بیوٹی فکیشن پلان لازمی ہونا چاہیے۔

’پنجاب کے ہر شہر میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور مین ہولز کو کور کرنا یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کی سہولت اور ماحول کی بہتری ممکن ہو سکے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بیوٹیفکیشن پلان مریم نواز ہدایات جاری وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیوٹیفکیشن پلان مریم نواز ہدایات جاری وی نیوز کیے جائیں گے ہونا چاہیے مریم نواز انہوں نے پنجاب کے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار