وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی مصری ہم منصب سے قاہرہ میں ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سپریم کونسل برائے اسلامک افیئرز کے زیر اہتمام 36ویں بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کے موقع پر مصری وزیر برائے اوقاف ڈاکٹر اسامہ الازہری سے ملاقات کی۔
وفاقی وزیر نے ڈاکٹر اسامہ الازہری کو کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان برادرانہ تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کو کثیرالجہتی بنیادوں پر فروغ دینے کی خواہش کو خوش آئند اور قابلِ تحسین قرار دیا۔
مزید پڑھیں: حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہیں، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف
سردار محمد یوسف نے کانفرنس کے دوران مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امام الاکبر شیخ احمد الطیب سے ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے مصری وزیر اوقاف کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی۔
انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مابین حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان روابط سے پاکستان اور مصر کے درمیان مذہبی اور روحانی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے امام الاکبر شیخ الازہر اور وزیر اوقاف ڈاکٹر اسامہ الازہری کو بھی پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی۔
مزید پڑھیں: قرآن و سنت میں نوزائدہ کو 2 سال تک دودھ پلانے کی ہدایت ہے، سردار محمد یوسف
اس موقع پر ڈاکٹر اسامہ الازہری نے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کا کانفرنس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان و مصر کے درمیان مذہبی تعاون کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے جلد از جلد پاکستان کے دورے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی و عالمی چیلنجز کے تناظر میں مصنوعی ذہانت اور اس سے جڑے مسائل کو مشترکہ کاوشوں سے حل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر اسامہ الازہری سردار محمد یوسف مصر کے دارالحکومت قاہرہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر اسامہ الازہری سردار محمد یوسف مصر کے دارالحکومت قاہرہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر اسامہ الازہری سردار محمد یوسف وفاقی وزیر مصر کے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔