علامہ راجہ ناصر کی سینٹ میں اپوزیشن لیڈر تقرری مظلوموں کیلئے نیک شگون ثابت ہو گی، سید علی رضوی، کاظم میثم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن کا منصب ایک ایسی عظیم اور باکردار شخصیت کو ملا ہے جو پاکستان کی مقبول ترین قیادت عمران خان کی جانب سے منتخب کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے صدر آغا سید علی رضوی اور سابق اپوزیشن لیڈر کاظم میثم نے ایم ڈبلیو ایم کے چئیرمین و ممبر سینیٹ راجہ ناصر عباس جعفری کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن کا منصب ایک ایسی عظیم اور باکردار شخصیت کو ملا ہے جو پاکستان کی مقبول ترین قیادت عمران خان کی جانب سے منتخب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری مظلوموں، محروموں اور مستضعف طبقات کی حقیقی آواز ہیں، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سیاست ظلم کے خلاف جدوجہد اور مظلوموں کی حمایت پر مبنی ہے۔ آغا سید علی رضوی اور کاظم میثم نے مزید کہا کہ یہ قیادت جبر، فسطائیت اور استحصالی قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے اور ان کا نظریہ دینی، اصولی اور اخلاقی اقدار پر استوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری اور قومی وحدت ان کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استکباری طاقتوں بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کے خلاف جدوجہد اور قومی و ملی بحرانوں میں بلامصلحت میدانِ عمل میں اترنا ان کی سیاسی پہچان ہے۔ رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی تقرری مظلومین کے لیے نیک شگون ثابت ہو گی اور ملک میں سماجی ناہمواری، سیاسی گھٹن اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مثبت پیش رفت کا سبب بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔