data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عامر کے گھر اب شادی کے شادیانے نہیں ہیں بلکہ موت کا سوگ طاری ہے۔ عامر کی شادی عید کی بعد طے تھی لیکن گل پلازہ کی آگ نے اس کی جان لے لی، نبیل اپنی بیوی بچوں کے ساتھ گل پلازہ خریداری کے لیے آیا تھا نہ جانے کتنے ارمان ہوں گے اس کے بچوں کے دلوں میں نبیل اور اس کی بیوی کے دلوں میں… کون کون سے کھلونے لینے ہیں! گھر کی کیا کیا چیز لے لینی ہے؟ گھر کو سجانے کے لیے کون کون سی آرائشی چیزیں خریدنی ہیں؟ وہ اور اس کی بیوی سوچ رہے ہوں گے؛ وہاں آنے سے پہلے لیکن انہیں کیا پتا تھا۔ حکومت کی طرف سے تو بیان آگیا ہے کہ وہ متاثرین کو معاوضہ فراہم کریں گے۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہے؟ کہ پیاروں کی موت کا معاوضہ کچھ ہوتا ہی نہیں ہے ان کے اپنے اگر اس طرح کے حادثوں کا شکار ہوں تو پھر پوچھا جائے لیکن وہ تو عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کر رہے ہوتے ہیں حفاظتی اور سیکورٹی پرٹوکول۔۔۔
حکومتی ذمے دار کہتے ہیں کہ کراچی میں ہزاروں ایسی ہی عمارتیں موجود ہیں جہاں سرے سے کسی فائر سیفٹی کا انتظام کی موجود نہیں ہے۔ نہ بڑے تجارتی عمارتوں کے پاس فائر سیفٹی سرٹیفکیشن موجود ہیں۔ تو حکومت ڈنڈے کے زور پر تو قوانین نافذ نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لیے عوامی تعاون اور شعور کی ضرورت ہے۔ یعنی اس کے لیے بھی قصوروار عوام ہی ہیں۔ سندھ حکومت تو معصوم ہے وہ کیا کرے بیچاری؟؟ اسے تو ڈنڈے اور دھمکیوں کی بنیاد پر اپنا بھتا ہی وصول کرنا آتا ہے جس کو وہ پوری دلجمعی کے ساتھ وصول کرتے ہیں اور حق داروں تک پہنچا دیتے ہیں، ٹھیک ہے بھئی۔
سندھ پر 18 سال سے حکومت کرنے والے اس کے ذمے دار نہیں ان کی ذمے داری اپنی اور اپنی پارٹی کی مالی معاونت ہے۔ عوام جائیں بھاڑ میں، جیے یا جل مرے۔۔۔ بات یہ ہے کہ: کراچی جیسے بڑے معاشی حب پر انہیں کنٹرول ہے جو وفاق کو ساٹھ فی صد اور صوبے کو اسی فی صد ریونیو دیتا ہے اب یہ عوام کا قصور ہے کہ کراچی کے پاس آگ پر قابو پانے کا نظام نہیں، فائر فائٹرز کے پاس کٹ نہیں، پائپوں میں پانی نہیں، گاڑیوں میں پٹرول نہیں۔ بہت افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ تاجروں کی تنظیم کے صدر کہتے ہیں کہ گل پلازہ کی آگ بجھانے والی گاڑیوں میں ہر دس منٹ بعد پانی ختم ہو رہا تھا جس کی وجہ سے آگ پر قابو پانہ ممکن نہیں ہو رہا تھا اسی لیے تیس پینتیس گھنٹے بعد جا کر آگ بجھی ہے، انہوں نے کہا کہ نہ تو فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات تھے نہ اندر داخل ہونے کا کوئی موثر طریقہ کار اور پلاننگ موجود تھی آگ عمارت کی اوپری منزل پر لگی ہوئی تھی لیکن گاڑیاں اوپر تک پہنچ نہیں پا رہی تھیں۔ عمارت میں ابھی بھی دسیوں افراد پھنسے ہوئے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کی اسی سے سو افراد تک لاپتا ہیں۔
گل پلازہ تجارتی اور کاروباری لحاظ سے ایک اہم عمارت تھی جو پورے ملک میں جانی جاتی تھی پورے ملک کے طول وعرض سے تاجر وہاں آتے تھے جسے سستی اور معیاری اور متنوع خریداری کی علامت سمجھا جاتا تھا وہ آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھا یہ کثیر المنزلہ عمارت جس کے بیسمنٹ گراؤنڈ فلور مزنائن اور بالائی منزلوں پر بارہ سو سے زائد دکانیں اور گودام تھے بعض منزلوں پر دفاتر بھی موجود تھے۔ آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں جبکہ آگ پر قابو پانے کے لیے ہیلی کاپٹر ڈرون اور جدید فائر فائٹنگ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے جب کہ کراچی میں نہ کوئی نظام ہے نہ آلات اور طریقہ کار۔۔۔ بغیر کسی جدید آلات کے فائٹرز کو یوں ہی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے، غریب کی جان کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔۔۔ اور حکومتی اراکین 24 گھنٹے بعد وقوعہ پر پہنچ کر بیانات دیتے ہیں اور فوٹو شوٹ کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سندھ حکومت کیا کرے ان کے پاس ایک ہی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے اور وہ ہے مردہ بھٹو کو زندہ رکھنے کی۔ جسے وہ بڑی خوبی سے استعمال کر رہے ہیں اور نہ جانے کب تک کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ کے لیے کے پاس
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں