Jasarat News:
2026-07-24@05:08:00 GMT

گل پلازہ جل گیا

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عامر کے گھر اب شادی کے شادیانے نہیں ہیں بلکہ موت کا سوگ طاری ہے۔ عامر کی شادی عید کی بعد طے تھی لیکن گل پلازہ کی آگ نے اس کی جان لے لی، نبیل اپنی بیوی بچوں کے ساتھ گل پلازہ خریداری کے لیے آیا تھا نہ جانے کتنے ارمان ہوں گے اس کے بچوں کے دلوں میں نبیل اور اس کی بیوی کے دلوں میں… کون کون سے کھلونے لینے ہیں! گھر کی کیا کیا چیز لے لینی ہے؟ گھر کو سجانے کے لیے کون کون سی آرائشی چیزیں خریدنی ہیں؟ وہ اور اس کی بیوی سوچ رہے ہوں گے؛ وہاں آنے سے پہلے لیکن انہیں کیا پتا تھا۔ حکومت کی طرف سے تو بیان آگیا ہے کہ وہ متاثرین کو معاوضہ فراہم کریں گے۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہے؟ کہ پیاروں کی موت کا معاوضہ کچھ ہوتا ہی نہیں ہے ان کے اپنے اگر اس طرح کے حادثوں کا شکار ہوں تو پھر پوچھا جائے لیکن وہ تو عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کر رہے ہوتے ہیں حفاظتی اور سیکورٹی پرٹوکول۔۔۔

حکومتی ذمے دار کہتے ہیں کہ کراچی میں ہزاروں ایسی ہی عمارتیں موجود ہیں جہاں سرے سے کسی فائر سیفٹی کا انتظام کی موجود نہیں ہے۔ نہ بڑے تجارتی عمارتوں کے پاس فائر سیفٹی سرٹیفکیشن موجود ہیں۔ تو حکومت ڈنڈے کے زور پر تو قوانین نافذ نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لیے عوامی تعاون اور شعور کی ضرورت ہے۔ یعنی اس کے لیے بھی قصوروار عوام ہی ہیں۔ سندھ حکومت تو معصوم ہے وہ کیا کرے بیچاری؟؟ اسے تو ڈنڈے اور دھمکیوں کی بنیاد پر اپنا بھتا ہی وصول کرنا آتا ہے جس کو وہ پوری دلجمعی کے ساتھ وصول کرتے ہیں اور حق داروں تک پہنچا دیتے ہیں، ٹھیک ہے بھئی۔

سندھ پر 18 سال سے حکومت کرنے والے اس کے ذمے دار نہیں ان کی ذمے داری اپنی اور اپنی پارٹی کی مالی معاونت ہے۔ عوام جائیں بھاڑ میں، جیے یا جل مرے۔۔۔ بات یہ ہے کہ: کراچی جیسے بڑے معاشی حب پر انہیں کنٹرول ہے جو وفاق کو ساٹھ فی صد اور صوبے کو اسی فی صد ریونیو دیتا ہے اب یہ عوام کا قصور ہے کہ کراچی کے پاس آگ پر قابو پانے کا نظام نہیں، فائر فائٹرز کے پاس کٹ نہیں، پائپوں میں پانی نہیں، گاڑیوں میں پٹرول نہیں۔ بہت افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ تاجروں کی تنظیم کے صدر کہتے ہیں کہ گل پلازہ کی آگ بجھانے والی گاڑیوں میں ہر دس منٹ بعد پانی ختم ہو رہا تھا جس کی وجہ سے آگ پر قابو پانہ ممکن نہیں ہو رہا تھا اسی لیے تیس پینتیس گھنٹے بعد جا کر آگ بجھی ہے، انہوں نے کہا کہ نہ تو فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات تھے نہ اندر داخل ہونے کا کوئی موثر طریقہ کار اور پلاننگ موجود تھی آگ عمارت کی اوپری منزل پر لگی ہوئی تھی لیکن گاڑیاں اوپر تک پہنچ نہیں پا رہی تھیں۔ عمارت میں ابھی بھی دسیوں افراد پھنسے ہوئے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کی اسی سے سو افراد تک لاپتا ہیں۔

گل پلازہ تجارتی اور کاروباری لحاظ سے ایک اہم عمارت تھی جو پورے ملک میں جانی جاتی تھی پورے ملک کے طول وعرض سے تاجر وہاں آتے تھے جسے سستی اور معیاری اور متنوع خریداری کی علامت سمجھا جاتا تھا وہ آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھا یہ کثیر المنزلہ عمارت جس کے بیسمنٹ گراؤنڈ فلور مزنائن اور بالائی منزلوں پر بارہ سو سے زائد دکانیں اور گودام تھے بعض منزلوں پر دفاتر بھی موجود تھے۔ آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں جبکہ آگ پر قابو پانے کے لیے ہیلی کاپٹر ڈرون اور جدید فائر فائٹنگ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے جب کہ کراچی میں نہ کوئی نظام ہے نہ آلات اور طریقہ کار۔۔۔ بغیر کسی جدید آلات کے فائٹرز کو یوں ہی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے، غریب کی جان کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔۔۔ اور حکومتی اراکین 24 گھنٹے بعد وقوعہ پر پہنچ کر بیانات دیتے ہیں اور فوٹو شوٹ کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سندھ حکومت کیا کرے ان کے پاس ایک ہی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے اور وہ ہے مردہ بھٹو کو زندہ رکھنے کی۔ جسے وہ بڑی خوبی سے استعمال کر رہے ہیں اور نہ جانے کب تک کریں گے۔

 

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ کے لیے کے پاس

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف