معلوم نہیں وطنِ عزیز پر کسی آسیب کا سایہ ہے یا کوئی اور سبب ، آئے روز نت نئی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ ابھی ملک کو نئے صوبوں کی صورت میں ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی بازگشت باقی ہے کہ ایک اور نئی خبر سننے کو ملی ہے کہ مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم میں ووٹر کی عمر کے حوالے سے افواہ سامنے آرہی ہے ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی گل افشانیوں کے پسِ پردہ کون لوگ ہیں جو کسی کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ ووٹر کی عمر کے حوالے یار لوگ یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ چونکہ اٹھارہ سال کی عمر میں نوجوان اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا کہ یہ فیصلہ کر سکے کہ اسے کس سیاسی جماعت کے حق میں ووٹ کے ذریعے اپنا وزن ڈالنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ووٹ کی حدِ عمر پچیس سال کر دی جائے۔ اب یہ افواہ مارکیٹ میں پھیلائی گئی اور پھر ساتھ ہی تبصرے اور مباحث شروع ہوگئے ۔
پیپلز پارٹی کے اہم رکن قمر زمان کائرہ نے بھی یہی بات دہرائی ہے کہ اٹھارہ برس کی عمر میں نوجوان کی ذہنی آبیاری ابھی شروع ہی ہو رہی ہوتی ہے لہٰذا اس کے شعور کو جانچنا ہوگا کہ آیا وہ اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ جس سیاسی جماعت کو وہ ووٹ ڈالنے جا رہا ہے اس کا منشور کیا ہے اور اس منشور میں ریاست اور اس کے فرد کے لیے کیا تجاویز دی گئی ہیں۔ اسی بنیاد پر ووٹر کی عمر بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس پر ان سے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ان کے اپنے چیئرمین بلاول بھٹو نے جب پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو اس وقت ان کی عمر بھی لگ بھگ اٹھارہ برس ہی تھی۔
ملک کا نوجوان طبقہ پہلے ہی مایوسی اور بے دلی کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ روزگار کے مواقع کا فقدان ہے۔ نوجوان جب تعلیم مکمل کر کے روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے تو ہر جگہ اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں جنھیں ملازمت کی سہولت میسر آتی ہے۔ یہی صورتحال کاروبار کے شعبے کی بھی ہے۔ ملکی معیشت جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس میں نئے کاروباری مواقع خاصے کم ہو چکے ہیں اور اگر کوئی نوجوان نیا کاروبار شروع کرنے کی ہمت دکھا بھی دے تو اس کی جمع پونجی کے ضایع ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
نوجوان ملکی آبادی کا بڑا حصہ ہے جس میں آئے روز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ آج کے جدید دور میں اگر آپ ان کے شعور پر سوال اٹھائیں گے تو یہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔ آج کا نوجوان جس قدر باشعور ہے اور جس حد تک جدید ذرائعِ معلومات تک اس کی رسائی ہے، وہ ماضی میں ممکن نہ تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ میری طرح کے عمر رسیدہ افراد کے مقابلے میں ہماری نئی نسل زیادہ باشعور ہے تو یہ بے جا نہ ہوگا کیونکہ وہ دنیا کے جدید تقاضوں سے اپنے بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ ہم آہنگ ہے۔
پاکستان کے نوجوان ووٹرز جن کی عمریں اٹھارہ سے پچیس سال کے درمیان ہیں ان کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے اور 2029 کے انتخابات میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہو جائے گی۔ اگر کسی طبقے کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ یہ نوجوان کسی مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں ووٹ ڈال سکتے ہیں تو اس کا حل یہ نہیں کہ ووٹرز کی کم سے کم عمر بڑھا دی جائے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں جہاں انھیں باآسانی روزگار کے مواقع میسر ہوں اور ان کی آواز کو حکومتی ایوانوں میں سنا جائے۔اگر آپ نوجوانوں کو تعلیم دیں گے اور انھیں روزگار کا حق فراہم کریں گے تو وہ دن دور نہیں جب یہی باشعور نوجوان اپنے شعور کے بل بوتے پر اس ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے اور انھیں روزگار کے لیے کسی دوسرے ملک جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اگر آپ ان کی آواز دبائیں گے تو ممکن ہے کہ وقتی طور پر وہ خاموش ہو جائیں مگر یہ خاموشی بالآخر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔نوجوانوں کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے دیں۔
مجھے یقین ہے کہ ہمارا پاکستانی نوجوان اتنا باشعور ضرور ہے کہ وہ معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ووٹر کی عمر کم یا زیادہ کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے ملک کا نوجوان طبقہ مزید مایوسی کی دلدل میں دھنس جائے گا جو ریاست کی مضبوطی کے لیے کسی طور نیک شگون نہیں۔ ذہانت سے کیے گئے فیصلے ہی ملک کی تقدیر بدلتے ہیںاور ہماری نئی نسل ہی ہمارے ملک کا مستقبل ہے۔ نوجوانوں کو عزت دیں ، انھیں دنیا کے ساتھ چلنے دیں۔ یقین کیجیے !ہمارے ملک کا نوجوان ہرگز بے شعور نہیں ہے بلکہ باشعور ہے، اگر کہیں کمی ہے تو وہ اعتماد کی ہے جو حکومت ان نوجوانوں کو فراہم نہیں کر پا رہی۔ ایک آدھ انتخابات کے بعد آپ خود دیکھ لیں گے کہ یہی نوجوان اپنی بصیرت سے اپنے رہنماؤں کا درست انتخاب کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔بقولِ حضرت اقبال’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نوجوانوں کو ووٹر کی عمر کا نوجوان ملک کا رہا ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔