تیل‘ گیس اور معدنیات نکالنے کیلیے برطانیہ کی پاکستان کو 400 ملین ڈالر کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-01-2
اسلام آ باد (مانیٹر نگ ڈ یسک )پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تیل و گیس اور معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوگیا جبکہ برطانیہ نے جیولوجیکل سروے کے لیے 400 ملین ڈالر معاونت کی پیشکش بھی کی ہے۔یہ پیش رفت وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات میں سامنے آئی۔ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تیل و گیس اور معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ برطانیہ نے جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 400 ملین ڈالر معاونت کی پیشکش بھی کی۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ برٹش جیولوجیکل سروے اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان تعاون سے پاکستان کے منرل شعبے میں ترقی ہو گی۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ برطانوی ہائی کمشنر نے جین میریٹ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ملاقات میں اوگرا کی تنظیم نو کے لیے تشخیصی جائزے پر مشترکہ غور کیا گیا جبکہ وفاقی وزیر نے آف شور تیل و گیس تلاش میں برطانوی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ برطانوی کمپنیاں پاکستانی سرکاری اداروں کے ساتھ شراکت کر سکتی ہیں، پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 8 تا 9 اپریل منعقد کیا جائے گا۔برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم متاثر کن تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔