خیبر پختونخوا کو 15 سال میں 800 ارب روپے دیے گئے‘ترقی نظر نہیں آتی‘وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-01-22
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے۔ قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں طور پر آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے اذہان میں زہر گھولا جا رہا ہے، حتیٰ کہ شہدا کی عظیم قربانیوں کی توہین کر کے سرحد پار دشمن کی زبان بولی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیے بغیر قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔ افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام نے فرض سمجھ کر کی، تاہم اس کے نتیجے میں ملک میں کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی نے جنم لیا، جس میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ ایک لاکھ سے زاید جوانوں، افسروں اور شہریوں کی قربانیوں کے بعد دہشت گردی پر قابو پایا گیا، مگر 2018 کے بعد بعض غلط فیصلوں کے باعث یہ ناسور دوبارہ سر اٹھا گیا، جس سے قومی ترقی کو نقصان پہنچا۔ افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغان عبوری حکومت سے دوحا اور چین میں بات چیت کی گئی، مگر پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی جاری رہی، جس پر پاکستان کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ اب فیصلہ افغان عبوری حکومت کو کرنا ہے کہ وہ پرامن ہمسایے کے طور پر رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان سرد جنگ کا تاثر درست نہیں، تاہم جھوٹ اورپروپیگنڈے کے ذریعے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔