الخدمت کی خدمات نصف صدی پر محیط ہیں‘ ہر مشکل گھڑی میں قوم کا ساتھ دیا‘ منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-01-25
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ الخدمت کی خدمات نصف صدی پر محیط ہیں، الخدمت امانت اور دیانت کے ساتھ کام کر رہی ہے ، مخیرحضرات کے اعتماد کو لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے ۔ خدمت کے کام پاکستان بننے پہلے سے ہو رہے ہیں ،1976 میں رجسٹرڈ ہو نے والی الخدمت آج تناور درخت صورت بن چکی ہے ۔ زلزلہ ہویا سیلاب ہرمشکل گھڑی میں الخدمت قوم کا ساتھ دیتی ہے ،سانحہ گل پلازہ میں بھی الخدمت کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیم مستعدی سے کام کر رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ادارہ نورحق میں ـ’’الخدمت اپنا کاروبار ‘‘کے تحت 20 ضرورت مند افراد کوکاروبار کے لیے لاکھوں روپے مالیت کی موبا ئل اسیسریز پر مشتمل سامان تقسیم کرنے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر تے ہوئے کیا۔اس موقع ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشدقریشی ،ڈائریکٹر مائیکر و فنانس پر وگرام یوسف محی الدین ،منیجر محمد طارق اور دیگر ذمے داران موجود تھے ،تقریب میں کاروبار ی افراد میں سامان تقسیم کردیا گیااورکاروباری سامان سے متعلق اسناد تقسیم کی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ 2005 کا زلزلہ ہو ، 2010 اور 2022 کا سیلاب ہو یا شہر میں ہنگامی حالات ہوں الخدمت کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم ہمیشہ لوگوں کی مدد کے لیے میدان میں ہوتی ہے ۔الخدمت کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیم متاثرین کے ریسکیو ،ریلیف اور بحالی کے لیے کام کر تی ہے ۔منعم ظفر خان نے کہا کہ الخدمت لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر نے اوران کے غم سمیٹنے کے لیے کام کر رہی ہے ۔ الخدمت کو لوگوں کا اعتماد حاصل ہے ،اسی لیے الخدمت زندگی کے ہرمیدان میں کام کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اہل خیر الخدمت کا ساتھ دیں تو الخدمت کے کاموں میں مزید وسعت پید اہوگی ۔الخدمت اپنا کاروبار کے ذریعے لوگوں کا سہارا بن رہی ہے ،الخدمت کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ آج جن افراد کو کاروبارکے لیے موبائل اسیسریز دی گئی ہیں وہ خوش نصیب ہیں ،اس سے ان کے کاروبار میں وسعت آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ رزق اور کاروبار میں برکت کے لیے حلال رزق کے حصول کی جدوجہد کی جائے ۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر الخدمت راشد قریشی نے کہا کہ الخدمت خدمت کے 50ویں سال میں داخل ہو چکی ہے ۔ہم 50 سال سے اہل خیر کی امانتیں لوگوں تک دیانت کے ساتھ منتقل کر رہے ہیں ۔یہ امانتیں ،زکوٰۃ ،اجناس اورعطیات جس صورت میں بھی ہوں ،دیانت کے ساتھ مستحقین تک پہنچائی جاتی ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ الخدمت زندگی ہے 8 شعبوں میں کام کر رہی ہے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے وژن کو مدنظر رکھ کر ہم نے نوجوانوں کو فری آئی ٹی تعلیم دی ۔بنو قابل پروگرام میں ملک بھر سے 12 لاکھ بچے رجسٹرڈ ہو چکے، ان شااللہ یہ تعداد 2026 میں بڑھے گی اور ہم 20 لاکھ بچوں کو پڑھائیں گے ۔یہ پروگرام ملک بھر میں پھیل گیا ہے ۔کفالت یتامیٰ پروگرام کے آرفن فیملی سپورٹ پروگرام کے تحت یتیم بچوں کی گھروں پر ماہانہ بنیاد وں پر کفالت کی جاتی ہے جبکہ آغوش ہوم میں بچوں کی مکمل کفالت کی جاتی ہے ،اس وقت ملک بھر میں 30 آغوش ہوم میں ساڑھے 3 ہزار بچے مقیم ہیں ۔شعبہ صحت کے تحت شہر بھر میں اسپتال ،ڈائیگنوسٹک سینٹرز ،میڈیکل سینٹرز ،کلینکس ،کلکشن پوائنٹس اور فارمیسیز قائم ہیں جہاں لوگوں کو علاج کی معیاری سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ۔وہیں ٹیسٹ کی معیاری سہولتیں اور رعایتی نرخوں پر دوائیں دی جا رہی ہیں ۔تعلیم کے میدان میں مدارس اور اسکولز نئی نسل کو دینی ودنیاوی زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں ۔قابل اور ذہین بچوں کوتعلیم جاری رکھنے کے لیے اسکالر شپس دی جاتی ہیں ۔کمیونٹی سروسز کے تحت لوگوں کو مفت پیشنٹ بیڈز ،بیساکھیاں ،وہیل چیئرز فراہم کی جاتی ہیں ،ہم جیلوں میں آئی ٹی کی تعلیم دے رہے ہیں، سیکڑوں قیدی وہاں کورسز کارچکے ہیں ۔مائیکروفنانس پروگرام سے چھوٹے بلاسود قرضے دیے جاتے ہیںتاکہ کمزورمالی حیثیت والے لو گ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں ۔اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو موٹرسائیکل مکنیک ، الیکٹریکل ،انڈسٹریل آٹومیشن جیسے سمیت دیگر کورسز کرا کر بے روزگاروں کو ہنرمند بنا کر ان کے پیروں پر کھڑا کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ الخدمت خدمت کے 50ویں سال میں داخل ہو گئی ہے ،لوگ الخدمت پر اعتماد کرتے ہیں ۔ یہاں جو سامان دیا گیا ہے ،ایک فرد کو دیے گئے سامان کی مالیت 2 لاکھ روپے ہے ۔ان شااللہ ہم 50 ویں سال میں 50 لوگوں کو روزگار دیں گے جن لوگوں کو موبائل اسیسریز دی گئی ہیں ،اس سے 20 خاندانوں کے افراد کے گھروں کے چراغ جلیں ۔انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے والے لوگوں کی ذمے داری ہے کہ کاروبار میں ایمانداری اختیار کر یں ،اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام کی پاسداری کریں ۔ڈائریکٹر مائیکروفنانس پروگرام یوسف محی الدین نے کہا کہ مائیکروفائنانس پروگرام بے روزگاروں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرنے کا پروگرام ہے ۔لوگوں کو بلاسود چھوٹے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ پروگرام کے ذریعے کچھ منفردکیا جائے ،اسی لیے موبائل اسیسریز فراہم کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موبائل اسیسریز فراہم کرنے والے اہل خیر کے مشکور ہیں ۔کاروبار میں معاونت اور روزگار کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ’’الخدمت اپنا کاروبار‘‘ کے تحت موبائل اسیسریز تقسیم کررہے ‘ دوسری جانب موبائل اسیسریز حاصل کرنے والے فرد سے ملاقات کررہے ہیں، راشد قریشی اور یوسف محی الدین بھی موجود ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ الخدمت انہوں نے کہا کہ کام کر رہی ہے کاروبار میں نے کہا کہ ا پروگرام کے الخدمت کی الخدمت ا فراہم کی لوگوں کو رہے ہیں کے تحت کے لیے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ