data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-01-27
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے جن کی تعداد 28 تک پہنچ گئی جب کہ لاپتا افراد کی فہرست 85 تک پہنچ گئی ہے۔چیف فائر افسر ہمایوں خان نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں آپریشن مکمل ہونے میں مزید دن لگ سکتے ہیں۔21 ناقابل شناخت میتیں ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔جاں بحق تمام افراد کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کر لیا گیا، گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے ایک خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کرلیا گیا۔پولیس سرجن کے مطابق33 سالہ مصباح دختر عرفان کی فیملی کے دیگر4 افراد بھی لاپتا ہیں۔ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک رضاکار نے دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ آگ کی تپش اتنی شدید تھی کہ انسانی جسم پگھل کر ملبے کا حصہ بن گئے۔ رضاکار کا کہنا تھا کہ جب ہم اندر داخل ہوئے تو منظر بیان سے باہر تھا۔ کئی لاشیں بالکل پگھل چکی تھیں، کچھ کوئلے کی شکل اختیار کر گئیں تو کچھ ٹکڑوں کی صورت میں ملیں۔ ایک ڈھائی تین سالہ معصوم بچے کی لاش ملی جو جل کر اکڑ چکی تھی، بظاہر اس کی موت دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔ متاثرہ دکانداروں اور عینی شاہدین نے انکشاف کیا ہے کہ عمارت کے کل 26 داخلی و خارجی راستے ہیں لیکن سیکورٹی کے نام پر رات 10 بجے کے بعد 24 دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ سانحے کے وقت صرف2 دروازے کھلے تھے اور کوئی ‘ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا۔ بجلی کی بندش، گھپ اندھیرے اور زہریلے دھوئیں نے محصور افراد کے لیے نکلنے کے تمام راستے مسدود کر دیے، جس کے باعث بھگدڑ مچی اور لوگ بے ہوش ہو کر گرنے لگے۔تاجر زبیر نے بتایا کہ ان کی دکان میں خواتین سمیت 20 سے زاید افراد موجود تھے۔ زبیر کے کزن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے اندر محصور اپنے دوسرے کزن سے رابطہ کیا تو اس نے روتے ہوئے معافی مانگنا شروع کر دی اور کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ہم زندہ بچ سکیں گے، ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت زبیر کو بے ہوشی کی حالت میں نکالا لیکن سب اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔سول اسپتال اور گل پلازہ کے باہر بے بسی کی تصویر بنے لواحقین کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ 22 سالہ عارف کے والد محمد رفیق گزشتہ 4 روز سے عمارت کے باہر بیٹھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، میں گھر والوں سے جھوٹ بول رہا ہوں کہ عارف مل جائے گالیکن اب ہمت جواب دے رہی ہے۔ لاپتا عارف کے بڑے بھائی یاسین نے بتایاکہ ہفتے کی رات آگ لگنے کے بعد ان کی اپنے بھائی سے فون کال پر بات ہوئی کہ گل پلازہ میں آگ لگ گئی، وہ دکان بند کرکے نکل رہا ہے۔مگر اگلی کال میں بتایا کہ ان کے فلور پر دھواں بھررہاہے اور اس کا دم گھٹ رہاہے، اس کے بعد اچانک فون بند ہوگیا، رات کو وہ لوگ بھاگم بھاگ گل پلازہ کے باہر پہنچے تو عمارت شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔یاسین کے مطابق 20 روز قبل محمد عارف کے گھر بیٹی کی ولادت ہوئی تھی۔ کورنگی کے 45 سالہ سیلز مین تنویر احمد بھی اس آگ کی نذر ہوگئے۔ ان کے بیٹے نے بتایا، والد نے کہا تھا کہ آکر موبائل سم نکلوانی ہے، مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے اندر اب بھی سرچ آپریشن جاری ہے تاہم ملبے کی کثرت اور ڈھانچے کی مخدوش حالت کے باعث کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجر برادری اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت کے مالکان اور انتظامیہ کے خلاف غفلت کا مقدمہ درج کیا جائے جنہوں نے حفاظتی راستے بند رکھ کر اسے ‘موت کا کنواں’ بنا دیا تھا۔علاوہ ازیں عمارت کی چھت پر موجود گاڑیوں کو ہیوی کرینوں کی مدد سے بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ہے ۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ چند گاڑیوں کو فوری طور پر متعلقہ مالکان کے حوالے کر دیا گیا۔ باقی گاڑیوں کو بھی ضابطے کی کارروائی کے بعد مالکان کے سپرد کیا جائے گا۔علاوہ ازیں گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے بعد ایک نیا معاملہ سامنے آ گیا ہے۔گل پلازہ کا ملبہ لے کر جانے والے 2 ڈمپرز پْراسرار طور پر غائب ہوگئے ہیں،8 ڈمپرز کے ذریعے ملبہ منتقل کیا جارہا تھا، 2 غائب ہوگئے، غائب ہونے والے ڈمپرز میں تاریں اور کاپر موجود تھا،دونوں ڈمپرز گل پلازہ سے نکلے مگر ڈمپنگ پوائنٹ پر نہیں پہنچے۔ڈپٹی کمشنر(ڈی سی) ساؤتھ نے غائب ڈمپرزکی تفصیلات طلب کرلیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈمپرز کے غائب ہونے سے متعلق تحقیقات شروع کردی گئیں ہے۔ ذرائع کے مطابق غائب ہونے والے دونوں ڈمپرز کے نمبر 808 اور 670 ہیں۔دوسری جانب گل پلازہ کے تاجروں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ہمارا کروڑوں کا سامان جل گیا اور دوسری طرف جو بچا ہے اسے ڈمپروں میں بھر کر غائب کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ملبہ کہاں گرایا جا رہا ہے اور اس میں موجود سامان کا ریکارڈ کیا ہے۔ تاجروں کے نقصان کا پہلے ہی کوئی ازالہ نہیں ہو رہا ہے۔قبل ازیں وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی۔ جام کمال نے ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے، یہاں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے، میری ذمے داری تاجر برادری کے حوالے سے ہے، وفاقی حکومت ہر لحاظ سے مدد کرے گی۔ادھر گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر پلازہ کے گیٹ بند تھے تو اتنے سارے لوگ کیسے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے مجموعی طور پر 16 داخلی اور خارجی راستے ہیں اور عقب میں ایمرجنسی ایگزٹ پر ریمپ ہے۔ تنویر پاستا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا ہے اور نہ پھیلائیں گے، بھیک نہیں مانگیں گے اپنا حق عزت سے لیں گے، بہت جلد پلازہ کو دوبارہ کھڑا کریں گے۔ صدر گل پلازہ نے کہا کہ کسی بھی فیملی کو مطمئن نہیں کر سکتے، جس کا پیارا چلا گیا وہ واپس نہیں آسکتا لیکن مالی معاونت کر سکتے ہیں، پیسے کسی بہن بیٹی کے کام آجائیں گے۔مزید برآںسی او او ریسکیو 1122ڈاکٹر عابد جلال الدین نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد ریسکیو آپریشن میں تاخیر سے متعلق گردش کرنے والی تمام باتوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔اپنے ایک اہم بیان میں ڈاکٹر عابد جلال الدین نے واضح کیا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ ‘تھرڈ ڈگری’ کی تھی، جو کہ انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کا رسپانس مکمل طور پر بروقت تھا اور کارروائی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی گئی۔

کراچی: فائربریگیڈ کا عملہ چوتھے روز بھی گل پلازہ میں امدادی سرگرمیوںمیں مصروف ہے

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ میں ا گل پلازہ کے کہ گل پلازہ عمارت کے کا کہنا کے بعد نے کہا رہا ہے کہا کہ تھا کہ کیا ہے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق