ٹنڈوجام ،زرعی تحقیقاتی ادارے کے کوارٹروں پر قبضہ ،ملازمین کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام میں زرعی تحقیقاتی ادارے کے چار رہائشی کوارٹروں پر بیرونی افراد کے ناجائز قبضے کے خلاف زرعی تحقیقاتی ادارے کے ملازمین کا احتجاج مظاہرہ دھرنا اگر کواٹروں کو خالی ،نہیں کرایا گیا تو اس کے خلاف تحریک چلائی جائے تفصیلات کے مطابق سندھ زرعی تحقیقاتی ادارہ ٹندوجام کی تنظیم سارنگیا کے پلیٹ فارم سے مرکزی رہنماؤں اور نچلے درجے کے ملازمین نے ڈائریکٹر جنرل آفس زرعی تحقیقاتی سندھ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی اور دھرنا دیا اس موقع پر تنظیم کے جنرل سیکریٹری شریف کاتھیو، دیدار سولنگی، ممتاز بلوچ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایگریکلچر ریسرچ کے چار رہائشی کوارٹروں پر بیرونی افراد نے غیر قانونی طریقے سے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور ان کی سرپرستی ادارے کے آفسران کر رہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے ان سے کرایہ وصول کیا جاتا ہیاور جن ملازمین کا ان کواٹروں پر حق ہے رہائش کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور انھوں نے کہا جب ملازمین ان کواٹروں کی الاٹمنٹ کے لیے بات کی جاتی ہے تو وہاں پر موجود مسلح افراد سے انھیں ڈرایا اور دھمکیاں جاتا ہے ہیں انہوں نے کہا کہ ناجائز قبضوں کی مکمل اطلاع ہونے کے باوجود انتظامیہ کا آنکھیں بند کیے رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے انتظامیہ کی جانب سے بیرونی افراد کو اس طرح قبضوں کی چھوٹ دی گئی تو ایک دن یہی لوگ دفاتر کی عمارتوں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ کوارٹروں پر قبضہ کر کے وہاں منشیات فروخت کی جا رہی ہیں، جس کے باعث علاقے کے رہائشیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ایگریکلچر ریسرچ کی انتظامیہ نے کوارٹروں سے ناجائز قبضے خالی نہ کرائے تو آئندہ پانچ فروری سے غیر معینہ مدت تک احتجاجی کیمپ قائم کر کے سخت احتجاج کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زرعی تحقیقاتی کوارٹروں پر ادارے کے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔