اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس ہوئی، پاکستان کی جی ڈی پی میں زرعی شعبےکا حصہ 26فیصدہے، زرعی شعبے میں لائیو اسٹاک کا حصہ 60 فیصد ہے، وزیراعظم کی زرعی شعبے پر خصوصی توجہ ہے۔

رانا تنویرحسین کا کہنا تھا کہ جتنی شعبے میں صلاحیت ہے،اس مناسبت سے گروتھ نہیں ہے، ترسیلات زر 40 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں،اصل شرح نموبرآمدات ہیں، برآمدات بڑھانے میں زرعی شعبے کا کردار اہم ہو گا، زرعی شعبے میں ترقی کیلئے چین پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کی کوششوں سے کامیاب ترین کانفرنس ہوئی، زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں 85چینی کمپنیوں نے شرکت کی، زرعی ٹیکنالوجی کولڈ چین فوڈ پروسیسنگ ایگر و کیمکل پر 37 ایم اویوز ہو چکے ہیں، کانفرنس میں 75ایم او یوزسائن ہو چکے ہیں،جن کی مالیت 4ارب ڈالر سے زائد ہے۔

وزیرغذائی تحفظ کا کہناتھا کہ سی پیک فیز ٹو میں بڑا حصہ زرغی انفراسٹریکچر سرمایہ کاری کاہے، حکومت کو ہر دن معاشی سفارتی سیاسی ملٹری سطح پر کامیابیاں مل رہی ہیں، زرعی شعبے میں اصلاحات لائی ہیں ،معیاری بیچ کیلئے سیڈ اتھارٹی بنا دی، کھاد کی سپلائی چین بہترکی کسانوں کو کریڈٹ تک رسائی بڑھائی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ زرعی شعبےمیں قرضوں کی ریکوری 69 فیصد ہے، آئندہ 3سال میں برآمدات بڑھائیں گے،فوڈسیکیورٹی یقینی بنائیں گے، گندم کی قلت نہیں وافر مقدار میں دستیاب ہے، پام آئل 89فیصد درآمد ہو رہا ہےجس کے درآمدی بل بڑھتاہے، عالمی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمت بڑھنے سے درآمدی بل بڑھا، زرعی شعبے کی برآمدات 8ارب ڈالرہیں تین سال میں ڈبل کرنےکا ہدف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر