data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-11-8
فیصل آبا د(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے راہنمااورسابق یو سی ناظم وچیئرمین سی سی28گلستان کالونی ،ممبرامن کمیٹی میاںطاہر ایوب نے آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربااضافہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ صوبائی حکومت کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب صرف اپنی تشہیر میں مصروف ہیں، آٹے کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑ رہا ہے۔مہنگائی کے اس نئے طوفان نے شہریوں، خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طورپرناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کی خریداری نہ کیے جانے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں نے بڑے پیمانے پر گندم ذخیرہ کر لی جو اب من مانے نرخوں پر مارکیٹ میں فروخت کی جا رہی ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 10 کلوگرام سرکاری آٹے کے تھیلے کی قیمت 905 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن مارکیٹ میں اس کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ سرکاری نرخوں پر آٹا یا مارکیٹ سے نہیں مل رہا جبکہ جہاں دستیاب ہے وہاں اس کا معیار ناقص ہے ۔جماعت اسلامی کے رہنمائوںنے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے اور گندم کی قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول کرکے آٹے کی قیمتوں کو فوری طور پر سابقہ سطح پر لایا جائے، سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

سیف اللہ وقائع نگار خصوصی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ٹے کی قیمتوں کی قیمتوں میں

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت