چیف جسٹس سے سپریم کورٹ بار کی ملاقات، بہترکیس مینجمنٹ پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ بار کی ملاقات میں کیس مینجمنٹ بہتر بنانے پر اتفاق ہو گیا، سپریم کورٹ نے ماہانہ کاز لسٹ پیشگی جاری کرنے اور ڈی لسٹنگ سے اڑتالیس گھنٹے قبل اطلاع دینے کا فیصلہ کر لیا۔اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ میں ماہانہ کاز لسٹ پیشگی جاری کی جائے گی جبکہ ہفتہ وار کاز لسٹ بدھ تک جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مقدمات کی ڈی لسٹنگ سے اڑتالیس گھنٹے قبل اطلاع لازمی ہوگی، جبکہ چوبیس گھنٹے کے اندر ڈی لسٹ ہونے والے کیسز اسی ہفتے دوبارہ مقرر کیے جائیں گے۔ابتدائی سماعت کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا اور اسی سال سے زائد عمر کے قیدیوں کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے گا، جبکہ سمجھوتے سے نمٹائے گئے کیسز بھی ابتدائی سماعت میں شامل ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق فیصلے اور احکامات فوری طور پر ای میل کے ذریعے وکلا کو ارسال کیے جائیں گے، دوپہر کے بعد سماعت کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی گئی ہے، اور فریقین کی مشترکہ درخواست پر ظہرانے کے بعد سماعت ممکن ہوگی، ایسی سماعتوں میں التوا نہیں دیا جائے گا۔برانچ رجسٹریز میں بینچز کا تعین مقدمات کی تعداد کے مطابق ہوگا جبکہ رجسٹرار روزانہ گیارہ سے سوا گیارہ تک شکایات سنیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔