ماتلی،پاکستان پوسٹل لائٹ انشورنس کی واجبات کی عدم ادائیگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-11-9
ماتلی (نمائندہ جسارت)پاکستان پوسٹل لائف انشورنس کارپوریشن کے اربوں روپے کے واجبات رکے متاثرین سراپا احتجاج۔پاکستان پوسٹل لائف انشورنس کارپوریشن گزشتہ دو سے ڈھائی سال سے ہزاروں صارفین کے اربوں روپے کے واجبات روک کر بیٹھی ہے جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید مالی بحران اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں صارفین کو نہ میچورٹی کی رقوم مل رہی ہیں نہ بونس دیے جا رہے ہیں اور نہ ہی بعض صورتوں میں جمع شدہ پریمیم کا درست ریکارڈ موجود ہے۔ماتلی کے تاجر ذیشان احمد گدی نے بتایا کہ انہوں نے پالیسی ختم کروا کر ڈھائی سال قبل کلیم جمع کرا دیا تھا مگر آج تک رقم ادا نہیں ہوئی انہوں نے تمام اقساط ٹرنمان پوسٹ آفس اور ماتلی پوسٹ آفس کی نائٹ شفٹ میں جمع کروائیں جن کی رسیدیں دستخط اور اسٹمپ کے ساتھ موجود ہیں مگر ادارہ یہ کہہ کر کلیم روک رہا ہے کہ یہ رسیدیں ریکارڈ میں شامل متاثرین کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان سرکاری ملازمین کو ہوا ہے جن میں اساتذہ اور دیگر اہلکار شامل ہیں کئی قسطیں سرکاری ریکارڈ میں جمع ہی نہیں ہوئیں جبکہ ذمہ دار اہلکار ریٹائر ہو چکے ہیں کراچی ٹھٹھہ ماتلی اور حیدرآباد کے صارفین دو سے ڈھائی سال سے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر کوئی عملی ریلیف نہیں ملا بعض متاثرین نے پوسٹ آفس کے اہلکاروں پر رقوم خوردبرد اور جعلی رسیدیں دینے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔رکی ہوئی ادائیگیوں کے باعث بچوں کی تعلیم گھروں کی تعمیر اور شادیوں جیسے اہم منصوبے متاثر ہو چکے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ان کی زندگی بھر کی محنت اور اعتماد کی تباہی ہے واضح رہے کہ پاکستان پوسٹل لائف انشورنس کی پالیسیوں میں حکومت پاکستان کی ضمانت درج تھی مگر اربوں روپے کی عدم ادائیگی نے ادارے کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔متاثرین نے وزیراعظم پاکستان وزارت مواصلات اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر واجبات ادا کرائے جائیں اور ادارے کے مالی معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ ان کے بقول یہ ایک بڑا عوامی فراڈ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان پوسٹل
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔