میرپورخاص،رمضان سے قبل گندم مافیا کی سرگرمیاں عروج پر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت )رمضان المبارک سے قبل میرپورخاص میں گندم مافیا کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں جس کے باعث سستی گندم کی دستیابی کے باوجود آٹا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے شہر میں آٹا 130 سے 134 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے سبسڈی دیے جانے کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف میسر نہیں۔تفصیلات کے مطابق میرپورخاص ریجن گندم کی پیداوار میں ہمیشہ خود کفیل رہا ضلع میں 80 ہزار ایکٹر پر گندم کی فصل کاشت کی جاتی ہے مگر ضلع میں آٹے کے بحران کا خدشہ نظر آنا شروع ہو گیا ہے میرپورخاص میں فلور مل مالکان گندم چکی مالکان اور محکمہ فوڈ کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے گندم کے سرکاری کوٹے کا کھلے عام غلط استعمال کیا جا رہا ہے محکمہ فوڈ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت جنوری کے مہینے میں میرپورخاص ریجن کی فلور ملوں اور گندم چکیوں کو مجموعی طور پر 20 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے جس میں سے 14 ہزار میٹرک ٹن فلور ملوں جبکہ 6 ہزار میٹرک ٹن گندم چکی والوں کے لیے مختص ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گندم عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کے بجائے نان آپریشنل فلور ملوں اور بند گندم چکیوں کو الاٹ کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ چند افراد اپنا پورا کوٹہ مبینہ طور پر ضلع سے باہر مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں دوسری جانب آپریشنل فلور مل اور چکی مالکان بھی اپنے گندم کے تقریباً 80 فیصد کوٹے کو ضلع سے باہر فروخت کر کے دگنا منافع کما رہے ہیں جبکہ باقی 20 فیصد گندم سے تیار کردہ آٹا بھی 120 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے جو آگے جا کر مارکیٹ میں 130 روپے فی کلو تک پہنچ جاتا ہے۔ رابطہ کرنے پر ایک چکی مالک نے بتایا کہ محکمہ فوڈ چکی مالکان کو فی چکی کے حساب سے ایک ماہ قبل 23 بوریاں دے رہے تھے جبکہ جنوری میں صرف 16 بوری گندم ایک آٹا چکی کو دی گئی جبکہ پہلے ریٹ 7500 روپے پر سو کلو گندم کی بوری کے حساب سے دیا جارہا تھا جو کہ جنوری میں 8 ہزار سے بڑھ کر 9500 میں سو کلو گندم کی بوری کے حساب سے آٹا چکی والوں کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ بجلی اور لیبر کا خرچا الگ ہے اس لیے نرخ بڑھانا مجبوری ہے ۔واضح رہے کہ اس صورتحال کے باعث مقامی دکاندار ضلع سے باہر سے آٹا منگوانے پر مجبور ہیں، جبکہ عام شہری، خصوصاً غریب اور دہاڑی دار طبقہ 80 روپے فی کلو دستیاب گندم کے باوجود 130 روپے فی کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہے۔ دوسری جانب آٹے کے نرخ میں اضافے کو جواز بنا کر ہوٹل اور تنور مالکان نے بھی روٹی کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس وقت حرکت میں آئے گی جب مافیا اپنی جیبیں بھر چکے ہوں گے اور بعد ازاں صرف رسمی کارروائیاں اور کاغذی اعلانات کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا جائے گا ۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومتِ سندھ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور آٹے کی سپلائی کی فوری اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے نان آپریشنل فلور ملوں اور چکیوں کو دیا گیا کوٹہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور رمضان المبارک سے قبل سستا آٹا یقینی بنا کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس وقت حرکت میں آئے گی جب مافیا اپنی جیبیں بھر چکے ہوں گے اور بعد ازاں صرف رسمی کارروائیاں اور کاغذی اعلانات کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومتِ سندھ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور آٹے کی سپلائی کی فوری اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے، نان آپریشنل فلور ملوں اور چکیوں کو دیا گیا کوٹہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے، اور رمضان المبارک سے قبل سستا آٹا یقینی بنا کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا پریشنل فلور فلور ملوں اور روپے فی کلو کے حساب سے گندم چکی گندم کی عوام کو سے باہر کیا جا رہا ہے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔