Jasarat News:
2026-07-24@04:16:11 GMT

میرپورخاص،رمضان سے قبل گندم مافیا کی سرگرمیاں عروج پر

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورخاص (نمائندہ جسارت )رمضان المبارک سے قبل میرپورخاص میں گندم مافیا کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں جس کے باعث سستی گندم کی دستیابی کے باوجود آٹا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے شہر میں آٹا 130 سے 134 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے سبسڈی دیے جانے کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف میسر نہیں۔تفصیلات کے مطابق میرپورخاص ریجن گندم کی پیداوار میں ہمیشہ خود کفیل رہا ضلع میں 80 ہزار ایکٹر پر گندم کی فصل کاشت کی جاتی ہے مگر ضلع میں آٹے کے بحران کا خدشہ نظر آنا شروع ہو گیا ہے میرپورخاص میں فلور مل مالکان گندم چکی مالکان اور محکمہ فوڈ کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے گندم کے سرکاری کوٹے کا کھلے عام غلط استعمال کیا جا رہا ہے محکمہ فوڈ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت جنوری کے مہینے میں میرپورخاص ریجن کی فلور ملوں اور گندم چکیوں کو مجموعی طور پر 20 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے جس میں سے 14 ہزار میٹرک ٹن فلور ملوں جبکہ 6 ہزار میٹرک ٹن گندم چکی والوں کے لیے مختص ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گندم عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کے بجائے نان آپریشنل فلور ملوں اور بند گندم چکیوں کو الاٹ کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ چند افراد اپنا پورا کوٹہ مبینہ طور پر ضلع سے باہر مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں دوسری جانب آپریشنل فلور مل اور چکی مالکان بھی اپنے گندم کے تقریباً 80 فیصد کوٹے کو ضلع سے باہر فروخت کر کے دگنا منافع کما رہے ہیں جبکہ باقی 20 فیصد گندم سے تیار کردہ آٹا بھی 120 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے جو آگے جا کر مارکیٹ میں 130 روپے فی کلو تک پہنچ جاتا ہے۔ رابطہ کرنے پر ایک چکی مالک نے بتایا کہ محکمہ فوڈ چکی مالکان کو فی چکی کے حساب سے ایک ماہ قبل 23 بوریاں دے رہے تھے جبکہ جنوری میں صرف 16 بوری گندم ایک آٹا چکی کو دی گئی جبکہ پہلے ریٹ 7500 روپے پر سو کلو گندم کی بوری کے حساب سے دیا جارہا تھا جو کہ جنوری میں 8 ہزار سے بڑھ کر 9500 میں سو کلو گندم کی بوری کے حساب سے آٹا چکی والوں کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ بجلی اور لیبر کا خرچا الگ ہے اس لیے نرخ بڑھانا مجبوری ہے ۔واضح رہے کہ اس صورتحال کے باعث مقامی دکاندار ضلع سے باہر سے آٹا منگوانے پر مجبور ہیں، جبکہ عام شہری، خصوصاً غریب اور دہاڑی دار طبقہ 80 روپے فی کلو دستیاب گندم کے باوجود 130 روپے فی کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہے۔ دوسری جانب آٹے کے نرخ میں اضافے کو جواز بنا کر ہوٹل اور تنور مالکان نے بھی روٹی کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس وقت حرکت میں آئے گی جب مافیا اپنی جیبیں بھر چکے ہوں گے اور بعد ازاں صرف رسمی کارروائیاں اور کاغذی اعلانات کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا جائے گا ۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومتِ سندھ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور آٹے کی سپلائی کی فوری اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے نان آپریشنل فلور ملوں اور چکیوں کو دیا گیا کوٹہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور رمضان المبارک سے قبل سستا آٹا یقینی بنا کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس وقت حرکت میں آئے گی جب مافیا اپنی جیبیں بھر چکے ہوں گے اور بعد ازاں صرف رسمی کارروائیاں اور کاغذی اعلانات کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومتِ سندھ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور آٹے کی سپلائی کی فوری اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے، نان آپریشنل فلور ملوں اور چکیوں کو دیا گیا کوٹہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے، اور رمضان المبارک سے قبل سستا آٹا یقینی بنا کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا پریشنل فلور فلور ملوں اور روپے فی کلو کے حساب سے گندم چکی گندم کی عوام کو سے باہر کیا جا رہا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن