ایس بی سی اے نے رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ کے بعد اس سے ملحقہ رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دے دیا۔
ایس بی سی اے کی جانب سے رمپا پلازہ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کردیے گئے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے ملبے کی وجہ سے رمپا پلازہ کے ستون متاثر ہوئے ہیں، رمپا پلازہ کےخطرناک حصے کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
رمپا پلازہ میں کسی بھی غیر اجازت شدہ سرگرمی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے جس کے بعد شناخت کی جانے والی لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے جبکہ سانحے میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں، 50 فیملیز کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے موصول ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب گل پلازہ میں فائر فائٹر اور ریسکیو ٹیمیں تیسری منزل تک پہنچ گئیں، پہلی اور دوسری منزل کو پہلے کلیئر کردیا گیا ہے جلد ملبے کو کلیئر کرنے کا مرحلہ شروع ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رمپا پلازہ پلازہ میں گل پلازہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔