نیند کم ہونے کی صورت میں دماغ کیا ردعمل دیتا ہے؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سائنسدانوں نے نیند کی کمی کے شکار افراد کے دماغ میں ہونے والے ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز عمل کو دریافت کیا ہے۔
نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ناقص نیند کے بعد توجہ مرکوز رکھنے میں دشواری، سست ردعمل اور سوچنے کی صلاحیت میں کمی محض تھکن کا نتیجہ نہیں بلکہ دماغ کے اندر جاری ایک مخصوص حیاتیاتی عمل سے جڑی ہوئی ہے۔
امریکا کے میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے کے بعد دماغ کے اندر کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ ایسے حالات میں دماغ کے اندر ایک خاص سیال کی حرکت بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت عارضی طور پر متاثر ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیںسرد موسم دل کے مریضوں کے لیے خطرہ: کن باتوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے؟
تحقیق کے مطابق cerebrospinal fluid یا سی ایس ایف عام طور پر نیند کے دوران متحرک ہوتا ہے اور دن بھر میں دماغ میں جمع ہونے والے فاضل مادوں کو صاف کرتا ہے۔ یہ عمل دماغی صحت کے لیے نہایت ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر نیند کی کمی کی صورت میں یہی نظام بیداری کے دوران بھی فعال ہو جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جب سی ایس ایف بیداری کے دوران حرکت کرتا ہے تو ان لمحات میں دماغ توجہ برقرار رکھنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہ عمل دراصل دماغ کی جانب سے نیند کی کمی کا ازالہ کرنے کی ایک کوشش ہے، مگر اس کی قیمت فوری طور پر ذہنی توجہ میں کمی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
اس تحقیق کے لیے 26 رضاکاروں کو شامل کیا گیا جن کے ٹیسٹ 2 مراحل میں کیے گئے۔ ایک مرحلہ نیند کی کمی کے بعد جب کہ دوسرا مکمل نیند کے بعد رکھا گیا۔ اگلی صبح مختلف ذہنی سرگرمیوں کے ذریعے دماغی افعال کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے نیچر نیورو سائنس میں شائع ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیند کی کمی تحقیق کے کے بعد
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔