ڈاکٹر شمعون نوشاد کی فطرت اور انسانی صحت کے تعلق پر مبنی تحقیق کی عالمی سطح پر پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی:
ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں ذہنی دباؤ اور اس سے جڑی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، پاکستانی سائیکوفزیالوجسٹ ڈاکٹر شمعون نوشاد اپنی تحقیق کے ذریعے فطرت، ذہنی صحت اور انسانی جسمانی نظام کے باہمی تعلق پر عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
ایڈوانسڈ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (AEIRC) سے وابستہ ڈاکٹر شمعون نوشاد نے اپنی تحقیقی کاوشوں میں یہ واضح کیا ہے کہ قدرتی ماحول کے ساتھ منظم اور بامقصد تعلق انسان کے جذباتی ردِعمل کو متوازن بنانے اور نفسیاتی دباؤ کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ان کی تحقیق کا محور وہ سائیکوفزیالوجیکل عوامل ہیں جن کے ذریعے فطرت انسانی اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔
جدید سائنسی آلات جیسے ہارٹ ریٹ ویری ایبلٹی (HRV) بایوفیڈبیک اور ای ای جی پر مبنی جذباتی تجزیے کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر شمعون نوشاد نے یہ ثابت کیا کہ فطرت پر مبنی تھراپی سے گزرنے والے افراد میں ذہنی دباؤ پر قابو پانے کی صلاحیت، جذباتی استحکام اور ذہنی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
بین الاقوامی علمی فورمز پر اپنی تحقیق پیش کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کو صرف طبی زاویے سے نہیں بلکہ ماحولیاتی اور سماجی تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق فطرت پر مبنی تھراپی ایک پائیدار اور ادویات کے بغیر علاج کا طریقہ ہے، جو خاص طور پر ان معاشروں کے لیے اہم ہے جہاں مسلسل ذہنی دباؤ پایا جاتا ہے اور ذہنی صحت کی سہولیات محدود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شمعون نوشاد کا کام ذہنی صحت کے شعبے میں ایک عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں علاج کے بجائے روک تھام اور ہمہ جہت حکمتِ عملیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور فطرت کو محض پس منظر نہیں بلکہ ایک فعال علاجی ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں شہری دباؤ اور ماحولیاتی بگاڑ نفسیاتی صحت پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں، ایسی تحقیق غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
فطرت پر مبنی تھراپی کو سائنسی پیمائش اور جسمانی شواہد کی بنیاد فراہم کرکے ڈاکٹر شمعون نوشاد نے اس طریقۂ علاج کو نہ صرف قابلِ اعتبار بنایا ہے بلکہ اسے ثقافتی طور پر موزوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بھی ثابت کیا ہے۔ ان کی تحقیق ذہنی صحت کی پائیدار دیکھ بھال سے متعلق مباحث کو نئی سمت دے رہی ہے اور پاکستان کو ماحولیاتی فلاح اور انسانی قوتِ برداشت پر ہونے والی عالمی گفتگو میں نمایاں مقام دلا رہی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ڈاکٹر شمعون نوشاد
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔