کوئٹہ، ملازمین کے احتجاج پر دوسرے روز بھی پولیس کا دھاوا، درجنوں مظاہرین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
گزشتہ روز پولیس کی کارروائی کے بعد آج بھی سرکاری ملازمین احتجاج کرنے جمع ہوئے تو کوئٹہ پولیس کے اہلکار ان پر ٹوٹ پڑے اور بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماء عبدالقدوس کاکڑ سمیت درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاج کے خلاف کوئٹہ پولیس کی جانب سے دوسرے روز بھی کارروائی کی گئی۔ پولیس نے گرینڈ الائنس کے آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ سمیت حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے درجنوں ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق اپنے مطالبات کے حق میں بلوچستان کے سرکاری ملازمین کی اتحادی تنظیم بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے گزشتہ روز ریڈ زون کوئٹہ میں دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پولیس نے گزشتہ روز کارروائی کرتے ہوئے درجنوں ملازمین کو گرفتار کیا۔ تاہم ملازمین نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کی کال دی۔ آج بھی مظاہرین جمع ہوئے تو کوئٹہ پولیس کے اہلکار ان پر ٹوٹ پڑے اور بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماء عبدالقدوس کاکڑ سمیت درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ گرینڈ الائنس نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری ملازمین پر تشدد بھی کیا گیا، جبکہ پروفیسر قدوس کاکڑ کو بھی زخمی کرکے گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب سرکاری دفاتر میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث نظام رک چکا ہے، جبکہ حکومت ملازمین سے مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان گرینڈ الائنس گرینڈ الائنس کے سرکاری ملازمین کو گرفتار
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔