پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف درخواست پر سماعت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف درخواست پر سماعت کے موقع پر پنجاب پولیس اور قومی تحفظ کمیشن برائے انسانی حقوق نے جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا۔
جسٹس عبہر گل نے میاں داؤد ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء کی درخواست پرسماعت کی۔
اس موقع پر درخواستگزار کا کہنا تھا کہ ابھی تمام فریقین کا جواب عدالتی ریکارڈ پر نہیں، جن فریقین کے جوابات آئے ہیں انہیں پڑھنے اور عدالت کی معاونت کیلئے وقت درکار ہے۔
عدالت میں وکیل نے کہا کہ وکلاء نے پولیس مقابلے فوری روکنے کیلئے حکم امتناعی کی درخواست دائر کی ہوئی ہے۔
جسٹس عبہر گل نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ ایک گھنٹے بعد جج نے یا آپ نے زندہ رہنا ہے۔
اس پر درخواست گزار وکیل نے کہا کہ بالکل کسی کو نہیں پتا لیکن ریکارڈ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے۔
تھانہ راوی روڈ میں تعینات اہلکار عبدالرحمان نے رنگ روڈ پر شہری سے رشوت لی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
جسٹس عبہر گل نے ریمارکس دیے کہ میں صرف خدشات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ آپ مفاد عامہ میں آئے ہیں، جب کوئی متاثرہ فریق آئے گا تو دیکھ لیں گے، باقی فریقین کا بھی جواب آنے دیں اور تینوں عدالتی فیصلے بھی جمع کروا دیں۔
عدالت میں پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے پاس متعدد پولیس مقابلوں کی انکوائریز زیرِ التواء ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔