سیمینار اس نتیجے پر اختتام پذیر ہوا کہ امام خامنہ‌ ای کا نظامِ حکمرانی قرآنِ کریم، سیرتِ نبویﷺ اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ پر مبنی ایک مضبوط، منظم اور قابلِ تقلید ماڈل ہے، جو امتِ مسلمہ کیلئے فکری رہنمائی اور استقلال کا پیغام فراہم کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خانہ فرہنگ جمہوریہ اسلامی ایران کراچی میں بعثتِ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بابرکت مناسبت سے فکری و علمی سیمینار بعنوان ’’امام خامنہ‌ ای کے نظامِ حکمرانی پر ایک نظر‘‘ منعقد ہوا۔ اس سیمینار کا مقصد سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اسلامی نظامِ حکمرانی کے اصولوں کو اجاگر کرنا اور بالخصوص رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ‌ ای کے فکری، اخلاقی اور عملی طرزِ قیادت کا جائزہ لینا تھا۔ سیمینار کا آغاز قاری محمد سعد کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد جمہوریہ اسلامی پاکستان اور جمہوریہ اسلامی ایران کے قومی ترانے پیش کیے گئے۔ بعد ازاں نوجوان مہدی پورکاپا نے انقلابی ترانے اور منقبت پیش کی۔

سیمینار کے دوران معلوماتی ویڈیوز اور بریفنگ بھی پیش کی گئی، جن میں ایران میں حالیہ بدامنی کے واقعات، ان میں ملوث بیرونی حمایت یافتہ عناصر اور بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان کو اجاگر کیا گیا، نیز اس امر پر زور دیا گیا کہ یہ کارروائیاں ایران کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششوں کا حصہ تھیں۔ سمینار کی نظامت معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر سید مظفر رضوی نے انجام دی۔ اس موقع پر ممتاز دینی، فکری اور سماجی شخصیات نے خطاب کیا، جن میں آیت اللہ غلام عباس رئیسی، ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ، ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہن ایران کراچی ڈاکٹر سعید طالبی نیا، مولانا محمود الحسین الحسینی، ماہر عالمی امور پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت اور معروف تجزیہ کارآغا علی نقی ہاشمی شامل تھے۔

آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت امام زمانہؑ کے نائبِ برحق کی قیادت اور اسلامی انقلاب کے استقامت بھرے راستے کو شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے ایران کو ایک مضبوط اور گہری جڑوں والے درخت سے تشبیہ دی، جس کا ثمر مزاحمت، استقلال اور وقار ہے۔ انہوں نے رہبرِ معظم انقلاب امام خامنہ ای کی جانب سے بیان کردہ اصول عزت، مصلحت اور حکمت کو اسلامی حکمرانی کی اساس قرار دیا اور کہا کہ جو قوم اللہ کی نصرت کی مستحق بن جاتی ہے، اسے کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔

ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے سمینار کو پاکستانی عوام کی جانب سے جمہوریہ اسلامی ایران کے ساتھ محبت، اخوت اور یکجہتی کی خوبصورت علامت قرار دیا۔ اکبر عیسیٰ زادہ نے امام خامنہ‌ ای کی تصنیف ’’ڈھائی سو سالہ انسان‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی اکرمﷺ کی اخلاقی اور حکمرانی صفات رہبرِ انقلاب کی قیادت میں عملی صورت میں نمایاں نظر آتی ہیں، جن میں عدل، مساوات، وحدت، بصیرت اور قومی استحکام شامل ہیں۔ انہوں نے حالیہ جنگی حالات میں رہبرِ انقلاب کی قیادت اور حکمتِ عملی کو فیصلہ کن قرار دیا۔

ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے بطور میزبان تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ امام خامنہ‌ای کا نظامِ حکمرانی عوامی مفاد، قومی خودمختاری اور توکل علی اللہ پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی عوام ہر مشکل مرحلے پر اپنے رہبر کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں، جس کا عملی اظہار عوامی اجتماعات اور مظاہروں میں دیکھا گیا۔ مولانا محمود الحسین الحسینی نے کہا کہ ایران کے اسلامی نظامِ حکومت کا موازنہ کسی دوسرے نظام سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ خالصتاً قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ استعماری طاقتیں ایران کو اس لیے نشانہ بناتی ہیں کیونکہ ایران ان کی بالادستی، فرقہ واریت اور غلامی کے نظام کو قبول نہیں کرتا۔

پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی، مسلم ممالک کے وسائل پر قبضے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے ایران کی قیادت کو باایمان، باوقار اور اصولوں پر قائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی سائنسی، دفاعی اور فکری ترقی مضبوط اور بااصول قیادت کا نتیجہ ہے۔ آغا نقی ہاشمی نے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تزکیۂ نفس کے بغیر اقتدار فرعونیت میں بدل جاتا ہے، جبکہ امام خامنہ‌ ای کی قیادت اخلاص، اخلاق اور خدا ترسی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب طاقت کے زور پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور اخلاقی برتری کے ذریعے قیادت کر رہے ہیں۔

سیمینار میں اساتذہ، پروفیسرز، دانشوروں، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما، وکلاء، شعراء، ادبا، کالم نگاروں، حوزہ علمیہ اور جامعات کے طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار اس نتیجے پر اختتام پذیر ہوا کہ امام خامنہ‌ ای کا نظامِ حکمرانی قرآنِ کریم، سیرتِ نبویﷺ اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ پر مبنی ایک مضبوط، منظم اور قابلِ تقلید ماڈل ہے، جو امتِ مسلمہ کیلئے فکری رہنمائی اور استقلال کا پیغام فراہم کرتا ہے۔ شرکاء نے جمہوریہ اسلامی ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے رہبرِ معظم انقلاب کی درازیٔ عمر، سلامتی اور کامیابی کیلئے دعا کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جمہوریہ اسلامی ایران کہ امام خامنہ ہوئے کہا کہ نے کہا کہ کی قیادت انہوں نے کہ ایران ایران کے اور اس

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی