data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت کے مبینہ استعمال سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈال دی۔ یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران گدھوں کے گوشت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہی۔

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ صوبیہ سومرو نے اس معاملے کو ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں گدھوں کا گوشت کھلائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس حساس مسئلے کی نگرانی کون کر رہا ہے اور ذمہ دار ادارے کہاں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے براہِ راست وضاحت دینے کے بجائے کہا کہ فوڈ سیفٹی اور خوراک سے متعلق معاملات صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نیشنل فوڈ سکیورٹی کے بجائے یہ ذمہ داری ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹیز کی ہے، جو صوبوں کے ماتحت کام کرتی ہیں۔

رانا تنویر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سب سے پہلے فوڈ اتھارٹی قائم کی تھی اور گدھوں کی کھالوں اور گوشت سے متعلق زیادہ تر معاملات صوبوں سے منسلک ہیں، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد یہ تمام سبجیکٹس باقاعدہ طور پر صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے وفاقی حکومت ان معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بعض ریسٹورنٹس منافع خوری کے لیے غیر معیاری گوشت، حتیٰ کہ مردہ مرغیوں کا گوشت بھی استعمال کرتے ہیں، جس کی روک تھام مقامی اور ضلعی سطح پر قائم فوڈ اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے، ان اداروں کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔

گفتگو کے دوران رانا تنویر حسین نے اٹھارہویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس ترمیم کے بعد سب کچھ درست ہے تو پھر کراچی میں آگ جیسے واقعات کو کیسے دیکھا جائے، جب بھی اٹھارہویں ترمیم پر بات کی جاتی ہے تو ایک مخصوص ردِعمل سامنے آتا ہے اور ایوان میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔

وفاقی وزیر کے اس بیان پر ایوان میں شور بھی دیکھنے میں آیا جبکہ اپوزیشن اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ خوراک جیسے نہایت حساس معاملے پر وفاقی حکومت کو محض ذمہ داری منتقل کرنے کے بجائے واضح، سنجیدہ اور ذمہ دارانہ جواب دینا چاہیے۔ اپوزیشن کے مطابق عوامی صحت کا معاملہ ہے جس پر کسی بھی قسم کی ابہام یا ٹال مٹول ناقابلِ قبول ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رانا تنویر وفاقی وزیر کہا کہ

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا