اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا معاملہ،وفاقی وزیرنے ذمہ داری صوبوں پر ڈال دی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت کے مبینہ استعمال سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈال دی۔ یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران گدھوں کے گوشت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہی۔
قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ صوبیہ سومرو نے اس معاملے کو ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں گدھوں کا گوشت کھلائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس حساس مسئلے کی نگرانی کون کر رہا ہے اور ذمہ دار ادارے کہاں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے براہِ راست وضاحت دینے کے بجائے کہا کہ فوڈ سیفٹی اور خوراک سے متعلق معاملات صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نیشنل فوڈ سکیورٹی کے بجائے یہ ذمہ داری ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹیز کی ہے، جو صوبوں کے ماتحت کام کرتی ہیں۔
رانا تنویر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سب سے پہلے فوڈ اتھارٹی قائم کی تھی اور گدھوں کی کھالوں اور گوشت سے متعلق زیادہ تر معاملات صوبوں سے منسلک ہیں، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد یہ تمام سبجیکٹس باقاعدہ طور پر صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے وفاقی حکومت ان معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بعض ریسٹورنٹس منافع خوری کے لیے غیر معیاری گوشت، حتیٰ کہ مردہ مرغیوں کا گوشت بھی استعمال کرتے ہیں، جس کی روک تھام مقامی اور ضلعی سطح پر قائم فوڈ اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے، ان اداروں کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔
گفتگو کے دوران رانا تنویر حسین نے اٹھارہویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس ترمیم کے بعد سب کچھ درست ہے تو پھر کراچی میں آگ جیسے واقعات کو کیسے دیکھا جائے، جب بھی اٹھارہویں ترمیم پر بات کی جاتی ہے تو ایک مخصوص ردِعمل سامنے آتا ہے اور ایوان میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔
وفاقی وزیر کے اس بیان پر ایوان میں شور بھی دیکھنے میں آیا جبکہ اپوزیشن اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ خوراک جیسے نہایت حساس معاملے پر وفاقی حکومت کو محض ذمہ داری منتقل کرنے کے بجائے واضح، سنجیدہ اور ذمہ دارانہ جواب دینا چاہیے۔ اپوزیشن کے مطابق عوامی صحت کا معاملہ ہے جس پر کسی بھی قسم کی ابہام یا ٹال مٹول ناقابلِ قبول ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا تنویر وفاقی وزیر کہا کہ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔