سپریم کورٹ کا سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کیس کیٹیگرائیزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو جائے گا اور مقدمات کی فائلوں پر ٹریکنگ فائلز کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15 دنوں میں مکمل ہوجائے گا اور اجلاس میں سزائے موت اور فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ لیا گیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ جب چیف جسٹس یحیی آفریدی نے منصب سنبھالا تو سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 26 اکتوبر 2024 کو 384 تھیں اور اب زیر التوا اپیلیں 107 رہ گئی ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 26 اکتوبر 2024 سے لے کر اب تک سزائے موت کی 172 نئی اپیلیں دائر ہوئیں جبکہ 449 اپیلیں نمٹائی گئیں۔چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت کی زیر التوا تمام اپیلیں اگلے 45 دنوں میں سن کر نمٹائی جائیں گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے جب منصب سنبھالا تو عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی جو کم ہو کر 3608 رہ گئی ہیں تاہم عمر قید کی اپیلوں کو نمٹانے کی ٹائم لائنز سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائیں گی۔

فیصلہ کیا گیا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز ترجیحی بنیاد پر فکس ہوں گی اور بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے تک ڈیجیٹلائیز ہوچکا ہے۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ پر بار کا شکریہ ادا کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرورلڈ اکنامک فورم:وزیراعظم سے ایم ڈی آئی ایم ایف اور فلسطینی وزیراعظم کی ملاقات ورلڈ اکنامک فورم:وزیراعظم سے ایم ڈی آئی ایم ایف اور فلسطینی وزیراعظم کی ملاقات امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن، یورپی ممالک اصلاحات پر توجہ دیں: ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب؛ ترکیہ بھی شرکت کیلیے رضامند طالبان کی شاہ خرچیاں، بجٹ کا 88 فیصد غیرترقیاتی کاموں پراڑا دیا پلیٹ فارم سے امن کے لیے عملی پیش رفت کی امید ,پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل سی ڈی اے کا ہائوسنگ سوسائٹیز سے ریکوری کا فیصلہ، گلبرگ،بحریہ ٹائون،الحمراء ایونیو،اوور سیز پاکستان فائونڈیشن ہائوسنگ سوسائٹی کو نوٹسز جاری،تفصیلات سب نیوز پر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: زیر التوا اپیلیں میں بتایا گیا بتایا گیا کہ سپریم کورٹ اجلاس میں کا فیصلہ چیف جسٹس

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ