اٹلی: سمندری طوفان نے تباہی مچادی، لہریں گھروں اور ریسٹورنٹ میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اٹلی کے سیاحتی جزیروں لیپاری اور سسلی میں سمندری طوفان ’ہیری‘ نے تباہی مچادی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹلی میں سمندری طوفان سے اٹھنے والی لہریں حدود کو عبور کرتی ہوئی جزیرے میں بنے ریسٹورنٹ، گھروں میں داخل ہوگئیں اور قیمتی اشیا کو تباہ و برباد کردیا۔
ویڈیو میں لہروں کو ساحل کے قریب موجود ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
سمندری پانی سے جزیرے میں سڑکیں زیر آب آگئیں۔ بچلی کے فینسی کھمبوں کو نقصان پہنچا اور ٹریفک معطل ہوکر رہ گیا۔
ساحلی علاقوں سے تقریباً 190 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جن میں ایک نگہداشت مرکز کے 32 رہائشی بھی شامل تھے۔
مختلف ساحلی قصبوں میں اسکول تاحکم ثانی بند اور ہنگامی آپریشن سینٹرز فعال کردیے گئے۔ جن میں متاثرہ افراد کو امداد فراہم کی جارہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔