لاہور میں شیر کا 8 سالہ بچی پر حملہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن میں واقع بھیکھے وال کی کچی آباددی میں پالتو شیر نے 8 سالہ بچی پر حملہ کر کے اُسے زخمی کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بھیکھے وال کی کچی آباد میں ہونے والے شیر کے حملے پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سخت نوٹس لیا جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پہنچے اور زخمی بچی کو اسپتال منتقل کردیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے پالتو شیرنی مالکان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا حکم دیا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق وقوعہ بھیکے وال پنڈ میں پیش آیا، بلاول اور شجاعت پالتو شیرنی کو رکشہ سے اتار رہے تھے، اس دوران وہ بھاگ گئی۔
مزید پڑھیںبھارت میں ناپید ہونے والے ایشیائی شیر خونخوار بن گئے
لاہور: فارم ہاؤس پر سیلابی پانی میں پھنسے چھ شیر ریسکیو
ترجمان کے مطابق شیرنی کے حملے سے بچی کی ٹانگ اور کان زخمی ہوا جبکہ ملزمان شیرنی لے کر فرار ہوگئے جنہیں جلد گرفتار کیا جائے گا۔
بچی کی شناخت ماریہ کے نام سے ہوئی جس کی والدہ ماریہ نے بتایا کہ میری آٹھ سالہ بیٹی رابعہ گلی میں کھیل رہی تھی اور اس دوران لائٹ گئی ہوئی تھی کہ اسی دوران دو سے تین افراد ایک شیرنی کو لے کر وہاں پر آئے۔
والدہ کے مطابق شیرنی نے میری بچی پر حملہ کر دیا، میری بیٹی رابعہ کا کان شیرنی کے منہ میں تھا، شیرنی کے ساتھ افراد نے بڑی مشکل سے میری بچی کو شیرنی سے چھڑوایا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا تاہم وہ میرے شوہر خضر عباس کو اپنے ساتھ لے گئی۔ پولیس کا ہکنا ہے کہ اعظم کھوکھر کو حراست میں لے لیکر تفتیش کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔