نوابشاہ ،محکمہ صحت کی نااہلی بے نقاب،اتائیوں کاراج قائم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ (نمائندہ جسارت )محکمہ صحت کی نااہلی بے نقاب، عطائیوں کا راج قائم؛ نجی ہسپتالوں کو صرف “مخصوص بلڈ بینک” سے خون لینے کا حکم، شفافیت پر سوالات ڈی سی کا ایک بار پھر کریک ڈاؤن کا اعلان ماضی کی ناکام کارروائیوں کا اعتراف کر لیا گیا نجی اسپتالوں کا فضلہ بیماریوں کا سبب بن گیاہے جس پر عوامی حلقوں کا تشویش کا اظہارکیا گیا ہے شہید بینظیر آباد میں محکمہ صحت اور ڈرگ انسپکٹرز کی مبینہ مجرمانہ غفلت کے باعث ضلع بھر میں عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی لیبارٹریز کا جال بچھ چکا ہے۔ صورتحال اس قدر گھمبیر ہے کہ ڈپٹی کمشنر عبدالصمد نظامانی کو “ایک بار پھر” کارروائیوں کو تیز کرنے کا حکم دینا پڑا، جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ماضی میں کی گئی کارروائیاں محض خانہ پوری تھیں۔اجلاس میں ایک اور حیران کن فیصلہ سامنے آیا جس کے تحت تمام نجی میڈیکل سینٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خون صرف “محمدی بلڈ بینک” سے حاصل کریں۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے اس حکم پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے دیگر رجسٹرڈ بلڈ بینکس کو نظر انداز کر کے صرف ایک نجی ادارے کو نوازنا “اجارہ داری” قائم کرنے کے مترادف ہے۔ کیا باقی بلڈ بینکس غیر معیاری ہیں؟ اگر ہیں تو انہیں سیل کیوں نہیں کیا جاتا مزید برآں، انتظامیہ نے انکشاف کیا کہ نجی ہسپتال اپنا خطرناک فضلہ مناسب طریقے سے تلف کرنے کے بجائے بیماریاں پھیلا رہے ہیں، جس پر اب انہیں پی ایم سی کے “انسنریٹر” سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خوش آئند سہی، لیکن متعلقہ اداروں کی سابقہ خاموشی کا احتساب کون کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔