چین امریکا پھیلاؤ اور گھیراؤ کی جنگ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-03-6
چین اپنی تمام صلاحیتیں معاشی پھیلاؤ پر صرف کر رہا ہے تو امریکا اپنی تمام توانائیاں چین کے گھیراؤ پر خرچ کر رہا ہے۔ اس وقت امریکا کی عالمی اور اسٹرٹیجک پالیسی دو ستونوں پر کھڑی ہے جن میں چین کو محدود کرنا اور اسرائیل کو وسعت دینا شامل ہے۔ چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے ذریعے کرۂ ارض پر اپنا معاشی جال پھیلا رہا ہے تو امریکا چین کو واپس چین کے جامے اور خیمے میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ دنیا میں جاری دھینگا مشتی کی ایک اہم وجہ یہی کشمکش ہے۔ امریکا اپنی براہ راست موجودگی یا اتحادیوں کی مدد سے چین کا گھیراؤ کررہا ہے تو چین اپنے دوستوں کو مضبوط کرکے اس گھیرے کو توڑ رہا ہے۔ چین کی دفاعی پالیسی کا محور یہ ہے کہ وہ کسی براہ راست تصادم سے ہر ممکن حد تک بچا رہے۔ اس کے براہ راست تصادم کا واحد مقام تائیوان ہوسکتا ہے۔ باقی ہر علاقے میں چین مقامی ملکوں کو معیشت اور ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں سے لیس کرکے معاملات آگے چلانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ امریکا یورپ اور اسرائیل کی مدد سے ایران میں رجیم چینج کی حالیہ کوشش کی ناکامی میں چین کی موجودگی ایک حقیقت بن کر سامنے آئی ہے۔ امریکا نے بھارت کو چین کے گھیراؤ کے اہم ترین مقام اور مرحلے کے طور پر اپنی ترجیح بنائے رکھا تھا۔ چین کو بھارت کے ذریعے گھر کی دہلیز پر ہی مصروف رکھنا بھارت کی حکمت عملی تھی۔ چین نے بھارت کا علاج پاکستان کے ذریعے کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ امریکا کو براہ راست چیلنج کرنے کے لیے چین نے ایران اور افغانستان کی موجودہ حکومتوں کو معاشی، فوجی اور ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں سے لیس کرنا شروع کیا ہے۔ افغانستان جیسا جنگ زدہ ملک آج چینی سرمایہ کاری کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس ملک میں بڑے تعمیراتی پروجیکٹس کی صورت میں کئی ناقابل یقین مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اسی طرح جنوبی کوریا اور جاپان کے مقابلے کے لیے چین نے شمالی کوریا کو تیار کر رکھا ہے۔ تائیوان واحد علاقہ ہے جہاں چین کسی براہ راست تصادم کے میدان میں اْتر سکتا ہے۔
یہ تو ملکوں کی سیاست ہے چین اپنے
متبادل عالمی اتحادوں کے ذریعے امریکی اثرر سوخ کے حامل اتحادوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ چین برکس کو یورپی یونین اور ناٹو کے مقابل کھڑا کررہا ہے۔ چین اس اتحاد کو ناٹو سے بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی حالیہ جھڑپ میں پاکستان کی طرف سے کئی دن تک بہت کمزور ردعمل ظاہر کیا گیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ پاکستان اپنے بڑے شہروں پر حملوں کو شاید نظر انداز ہی کردے گا۔ امریکا نے اپنے تئیں اس کا انتظام کررکھا تھا کہ پاکستان بھارت کی کسی جارحانہ حرکت کے جواب میں علامتی سے زیادہ ردعمل نہ دکھائے۔ حالیہ چند برسوں میں بھارت نے پاکستان کے طول وعرض میں چھبیس ایسے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی جو اس کے بقول کشمیر کی تحریک کے دوران بھارت کو زخم لگانے والوں میں شامل تھے۔ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات پر پاکستان کی خاموشی نے بھارت کے حوصلے بھی بڑھائے تھے اور کئی معنی خیز سوالات کو بھی جنم دیا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ اسی سے شہ پاکر بھارت نے جنگ کو ایک اور مرحلے میں لے جانے کی کوشش کی تھی۔ طاقت اور حالات کا پانسہ پلٹنے میں چینی ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ وہ بات تھی جو بھارت کے دفاعی امور کے ماہر تجزیہ نگار پروین ساہنی بھارتی حکمرانوں کو برسوں سے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پاکستان اور بھارت کی مستقبل کی جنگ میں بھارت کا واسطہ چینی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے پڑے گا۔ وہ بھارت کو یہ باور کرارہے تھے کہ یہ دومحاذوں کی عملی جنگ نہیں ہوگی بلکہ چین اپنی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرکے بھارت کو بے بس کر دے گا۔ آپریشن سندور میں یہی ہوا کہ بھارت کے حکمرانوں کو اب تک سمجھ میں نہیں آیا کہ ان کے ساتھ کیا ہوگیا ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو یوں گرا ہوا دیکھا تو انہیں بھی اپنے حساب بے باق کرنے کا موقع مل گیا۔ جو ممبئی حملوں کے بعد ہی سے بھارت کے حملوں کے لیے سہولت کاری کرتے تھے ان حملوں کے بعد بھارت کا انجام دیکھ کر ان کا مذاق اْڑانے لگ گئے اور صدر ٹرمپ اب تک جہازوں کی تعداد بڑھا کر مذاق اْڑانے کا یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتی جہازوں کے نظام کے جام ہونے نے پروین ساہنی کی پیش گوئی سچ ثابت کی اور دنیا بھر میں چینی ٹیکنالوجی کی دھاک بیٹھ گئی۔ چند ماہ میں دوسری بار ایران میں رجیم چینج کی کوشش کی ناکامی کی اصل کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ایران نے مظاہروں کے بیرونی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو کاٹنے کے لیے انٹرنیٹ سروس جام کر دی۔ امریکا کے پاس ایلون مسک کی انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک موجود تھی۔ جس کے بارے میں ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ اسٹار لنک دنیا میں کوئی ڈیڈ ایریا نہیں چھوڑے گا۔ یعنی دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں ہوگا جہاں تک اس نظام کی رسائی نہیں ہوگی اور کوئی ملک اگر انٹرنیٹ کے پورے نظام کو جام کرے گا تو بھی اسٹارلنک اپنا کام کرتا رہے گا کیونکہ اس کو جام کرنے کی صلاحیت کسی کے پاس نہیں۔
ایران نے جونہی مظاہروں کی بیرونی کمک اور کوڈڈ پیغامات کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کردی تو امریکا میں اسٹارلنک کا نظام فعال ہوگیا۔ بے قابو ہوتے ہوئے عوامی مظاہروں کے دوران اسٹارلنک کی فعالیت ایران کے لیے ایک حقیقی مشکل تھی۔ اسٹارلنک کے فعال ہوتے ہی ایران کے حالات کے بارے میں افواہوں اور فیک نیوز کا ایک نیا سلسلہ ہی شروع نہیں ہوا بلکہ موساد اور سی آئی آے کے پیغامات بھی ایران کے اندر موجود سلیپر سیلز کو موصول ہونا شروع ہوگئے۔ ایسی ہی ایک خبر ایران کے روحانی لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی بشارالاسد طرز کی روس جلاوطنی کی خبر تھی جسے پاکستانی میڈیا نے بہت اہتمام کے ساتھ نشر کیا۔ اسٹارلنک کی یہ فعالیت بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور ایران نے اس سسٹم کو بھی جام کردیا اور کہا جاتا ہے کہ یہ مشکل ترین مرحلہ چین کی ٹیکنالوجی کی مدد سے سر کیا گیا۔ جس کے بعد اسٹارلنک کو آخری چارۂ کار اور ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کی امید پر منصوبہ بندی کرنے والوں کے اوسان خطا ہوگئے۔ ایران کے اندر اپنے قائم کردہ نظام سے رابطوں کا کٹ جانا بیرونی قوتوں کے لیے ایک حادثے سے کم نہیں تھا کیونکہ اندرونی معلومات کے بغیر ان کی کارروائی کا مطلب اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں امریکا اور اسرائیل کو رجیم چینج کے منصوبے کو ادھورا چھوڑ کر واپس لوٹنا پڑا۔ یوں ایران میں امریکا کی ٹیکنالوجی کی برتری کو ایک سنجیدہ چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران پہلے ہی امریکی ڈرونز کو ناکارہ بناکراس کی ڈرون صنعت کو نقصان پہنچا چکا ہے اور اب ایلون مسک کی کمپنی اور دعووں کی ناکامی نے اس کی برتری کے ایک اور بت کو گرادیا ہے۔ اس طرح چینی اپنے گھر میں بیٹھ کر محض اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکا کے ہاتھوں اپنا تیز رفتار گھیرا توڑ نے کی راہ پر خراماں خراں چل رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی حکمت عملی براہ راست کے ذریعے بھارت کے بھارت کی بھارت کو نے بھارت ایران کے میں چین کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔