تہران:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے حملے کی صورت میں سخت، بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔

امریکی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عباس عراقچی نے لکھا کہ ایران کے خلاف امریکا کے جارحانہ اقدامات ناکام ہو چکے ہیں، دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کی پالیسی نہ تو ایران کو کمزور کر سکی اور نہ ہی اسے اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر پائی، امریکا کی یکطرفہ پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جون 2025 میں ایران نے انتہائی ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کیا تھا حالانکہ حالات سخت ردعمل کا تقاضا کر رہے تھے، اس وقت ایران نے خطے میں کشیدگی کم رکھنے کے لیے صبر کا راستہ اختیار کیا، اس تحمل کو کمزوری سمجھنا سنگین غلطی ہوگی، اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جسے بطور سفارت کار بیان کرنا وہ ضروری سمجھتے ہیں، کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا اور اس کے نتائج دنیا بھر کے عام لوگوں کو متاثر کریں گے۔

عباس عراقچی نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے اور ایران کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کرے، ایران ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی رہا ہے، مگر دباؤ اور طاقت کی زبان کبھی بھی مسائل کا حل نہیں بن سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل عباس عراقچی ایران کے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران