دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں اور دھمکیوں نے امریکا اور یورپ کے درمیان شدید سفارتی بحران پیدا کر دیا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ کو ‘قومی اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر’ قرار دینے اور یورپی ممالک کو تجارتی پابندیوں کی دھمکی دینے کے بعد ڈنمارک، یورپی یونین اور خود گرین لینڈ کی حکومت نے غیر معمولی سخت اور مشترکہ ردعمل دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: یورپ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، گرین لینڈ کے معاملے پر انکار کیا تو یاد رکھوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے’Greenland is imperative for National and World Security.

There can be no going back.’

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں تو ان کا مختصر جواب تھا: ‘You’ll find out.’

یورپی دارالحکومتوں میں اس جملے کو بالواسطہ سیاسی، معاشی اور عسکری دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 گرین لینڈ کی انتظامی تاریخ

گرین لینڈ کی تاریخ محض جغرافیے کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی نظام، خودمختاری اور حقِ خودارادیت کی طویل جدوجہد کی کہانی ہے۔ 10ویں صدی میں ناروے کے وائے کنگ آبادکار گرین لینڈ پہنچے، بعد ازاں یہ علاقہ ناروے کی سلطنت کے زیرِنگیں رہا، 1380 میں ناروے اور ڈنمارک کے اتحاد کے بعد گرین لینڈ عملی طور پر ڈنمارک کے کنٹرول میں آ گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ڈنمارک نے گرین لینڈ میں مزید فوجی تعینات کر دیے

1814 کے معاہدۂ کیل کے بعد گرین لینڈ مکمل طور پر ڈنمارک کا حصہ بن گیا، دوسری جنگِ عظیم کے دوران اگرچہ امریکا نے عارضی طور پر یہاں فوجی موجودگی قائم کی، تاہم گرین لینڈ کبھی بھی امریکی عمل داری میں شامل نہیں ہوا۔

 خودمختاری کی طرف سفر

1953 میں گرین لینڈ کو ڈنمارک کے اندر ایک باقاعدہ انتظامی حیثیت دی گئی، 1979ء میں گرین لینڈ کو ہوم رول حاصل ہوا، 2009 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اسے وسیع خودمختاری دی گئی۔ آج گرین لینڈ اپنا پارلیمنٹ (Inatsisartut) رکھتا ہے،اپنی حکومت اور وزیراعظم منتخب کرتا ہے اور داخلی معاملات، وسائل، معدنیات، ماہی گیری اور قانون سازی خود کرتا ہے،  تاہم دفاع، خارجہ پالیسی اور کرنسی بدستور ڈنمارک کے دائرہ اختیار میں ہیں۔

گرین لینڈ میں موجودہ نظامِ حکومت جمہوری پارلیمانی ہے جس کا دارالحکومت نوک ہے۔

 گرین لینڈ حکومت کا مؤقف

اس تنازع میں گرین لینڈ حکومت کا مؤقف ہے کہ اُن کا ملک کوئی کالونی نہیں اور اس کا مستقبل صرف اس کے عوام طے کریں گے، کسی بیرونی طاقت کو فیصلے مسلط کرنے کا حق حاصل نہیں۔صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد گرین لینڈ کی حکومت نے غیر معمولی سخت لہجہ اختیار کیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے، جزیرہ کسی ملک کی جائیداد نہیں بلکہ ایک قوم ہے،امریکی دباؤ یا دھمکیوں کو قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون

گرین لینڈ کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ہم نہ کسی کے خلاف ہیں اور نہ کسی کے زیرِنگیں، لیکن ہمارا مستقبل صرف ہم خود طے کریں گے۔ یہ بیان دراصل امریکی صدر کے اس مؤقف کا براہِ راست جواب تھا جس میں انہوں نے گرین لینڈ کو اسٹریٹجک ضرورت قرار دیا تھا۔

 ٹیرف کی دھمکی اور یورپی ردعمل

صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی مؤقف کی مزاحمت جاری رکھی تو 8 یورپی ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف جو جون تک 25 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ ‘گرین لینڈ بیچنے کے لیے نہیں’، خودمختاری اور جمہوری فیصلے سودے بازی کے قابل ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی امریکی دباؤ کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

 نیٹو اور عالمی سلامتی پر اثرات

یہ تنازع اب نیٹو کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ گرین لینڈ میں نیٹو فوجی مشقیں، امریکی یکطرفہ اقدام کی صورت میں اتحاد میں دراڑ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طاقت کے زور پر فیصلے نیٹو کو کمزور کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا اور کینیڈا کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، مشترکہ دفاعی کمانڈ کا اعلان

گرین لینڈ پر صدر ٹرمپ کے بیانات اور دھمکیوں نے ایک تاریخی خودمختار خطے کو عالمی تنازع کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ امریکا اور یورپ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا۔ بین الاقوامی قوانین، نیٹو اتحاد اور عالمی طاقت کے توازن پر سوال اٹھا دیے۔یہ معاملہ اب صرف گرین لینڈ کا نہیں رہا بلکہ 21ویں صدی کی عالمی سیاست میں خودمختاری بمقابلہ طاقت کی ایک علامت بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ڈینمارک صدر ڈونلڈ ٹرمپ قبضہ گرین لینڈ ناروے

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ڈینمارک صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ ناروے گرین لینڈ پر گرین لینڈ کی گرین لینڈ کو ڈنمارک کے اور یورپ کی دھمکی کے لیے کے بعد

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام