گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ، ڈنمارک اور یورپ کا انکار، گرین لینڈ کی تاریخی خودمختاری پھر موضوعِ بحث
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں اور دھمکیوں نے امریکا اور یورپ کے درمیان شدید سفارتی بحران پیدا کر دیا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ کو ‘قومی اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر’ قرار دینے اور یورپی ممالک کو تجارتی پابندیوں کی دھمکی دینے کے بعد ڈنمارک، یورپی یونین اور خود گرین لینڈ کی حکومت نے غیر معمولی سخت اور مشترکہ ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: یورپ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، گرین لینڈ کے معاملے پر انکار کیا تو یاد رکھوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے’Greenland is imperative for National and World Security.
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں تو ان کا مختصر جواب تھا: ‘You’ll find out.’
یورپی دارالحکومتوں میں اس جملے کو بالواسطہ سیاسی، معاشی اور عسکری دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گرین لینڈ کی انتظامی تاریخگرین لینڈ کی تاریخ محض جغرافیے کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی نظام، خودمختاری اور حقِ خودارادیت کی طویل جدوجہد کی کہانی ہے۔ 10ویں صدی میں ناروے کے وائے کنگ آبادکار گرین لینڈ پہنچے، بعد ازاں یہ علاقہ ناروے کی سلطنت کے زیرِنگیں رہا، 1380 میں ناروے اور ڈنمارک کے اتحاد کے بعد گرین لینڈ عملی طور پر ڈنمارک کے کنٹرول میں آ گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ڈنمارک نے گرین لینڈ میں مزید فوجی تعینات کر دیے
1814 کے معاہدۂ کیل کے بعد گرین لینڈ مکمل طور پر ڈنمارک کا حصہ بن گیا، دوسری جنگِ عظیم کے دوران اگرچہ امریکا نے عارضی طور پر یہاں فوجی موجودگی قائم کی، تاہم گرین لینڈ کبھی بھی امریکی عمل داری میں شامل نہیں ہوا۔
خودمختاری کی طرف سفر1953 میں گرین لینڈ کو ڈنمارک کے اندر ایک باقاعدہ انتظامی حیثیت دی گئی، 1979ء میں گرین لینڈ کو ہوم رول حاصل ہوا، 2009 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اسے وسیع خودمختاری دی گئی۔ آج گرین لینڈ اپنا پارلیمنٹ (Inatsisartut) رکھتا ہے،اپنی حکومت اور وزیراعظم منتخب کرتا ہے اور داخلی معاملات، وسائل، معدنیات، ماہی گیری اور قانون سازی خود کرتا ہے، تاہم دفاع، خارجہ پالیسی اور کرنسی بدستور ڈنمارک کے دائرہ اختیار میں ہیں۔
گرین لینڈ میں موجودہ نظامِ حکومت جمہوری پارلیمانی ہے جس کا دارالحکومت نوک ہے۔
گرین لینڈ حکومت کا مؤقفاس تنازع میں گرین لینڈ حکومت کا مؤقف ہے کہ اُن کا ملک کوئی کالونی نہیں اور اس کا مستقبل صرف اس کے عوام طے کریں گے، کسی بیرونی طاقت کو فیصلے مسلط کرنے کا حق حاصل نہیں۔صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد گرین لینڈ کی حکومت نے غیر معمولی سخت لہجہ اختیار کیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے، جزیرہ کسی ملک کی جائیداد نہیں بلکہ ایک قوم ہے،امریکی دباؤ یا دھمکیوں کو قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون
گرین لینڈ کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ہم نہ کسی کے خلاف ہیں اور نہ کسی کے زیرِنگیں، لیکن ہمارا مستقبل صرف ہم خود طے کریں گے۔ یہ بیان دراصل امریکی صدر کے اس مؤقف کا براہِ راست جواب تھا جس میں انہوں نے گرین لینڈ کو اسٹریٹجک ضرورت قرار دیا تھا۔
ٹیرف کی دھمکی اور یورپی ردعملصدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی مؤقف کی مزاحمت جاری رکھی تو 8 یورپی ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف جو جون تک 25 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ ‘گرین لینڈ بیچنے کے لیے نہیں’، خودمختاری اور جمہوری فیصلے سودے بازی کے قابل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی امریکی دباؤ کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
نیٹو اور عالمی سلامتی پر اثراتیہ تنازع اب نیٹو کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ گرین لینڈ میں نیٹو فوجی مشقیں، امریکی یکطرفہ اقدام کی صورت میں اتحاد میں دراڑ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طاقت کے زور پر فیصلے نیٹو کو کمزور کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور کینیڈا کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، مشترکہ دفاعی کمانڈ کا اعلان
گرین لینڈ پر صدر ٹرمپ کے بیانات اور دھمکیوں نے ایک تاریخی خودمختار خطے کو عالمی تنازع کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ امریکا اور یورپ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا۔ بین الاقوامی قوانین، نیٹو اتحاد اور عالمی طاقت کے توازن پر سوال اٹھا دیے۔یہ معاملہ اب صرف گرین لینڈ کا نہیں رہا بلکہ 21ویں صدی کی عالمی سیاست میں خودمختاری بمقابلہ طاقت کی ایک علامت بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈینمارک صدر ڈونلڈ ٹرمپ قبضہ گرین لینڈ ناروے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈینمارک صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ ناروے گرین لینڈ پر گرین لینڈ کی گرین لینڈ کو ڈنمارک کے اور یورپ کی دھمکی کے لیے کے بعد
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔