اپنے پیغام میں صدر جعفریہ الائنس نے کربلا کی قربانی کو انسانیت کو بچانے کی عظیم جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ نے یزیدیت کے خلاف قیام کرکے اپنے خون سے ایک زندہ انقلاب برپا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امام حسینؑ کی قربانی اسلام اور انسانیت پر ایک عظیم احسان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ 3 شعبان امام حسینؑ کی ولادت باسعادت کے موقع پر جعفریہ الائنس پاکستان کے صدر علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات سیرت امام حسینؑ پر عمل پیرا ہونے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا اور اسلامی معاشرہ ظلم و ناانصافی کا شکار ہے، ایسے میں امام حسینؑ کی سیرت ہمیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور انسانی اقدار کی حفاظت کا درس دیتی ہے۔ علامہ شہنشاہ نقوی نے زور دیا کہ امام حسینؑ صرف کسی ایک فرقے یا مذہب تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے روحانی پیشوا ہیں۔ انہوں نے کربلا کی قربانی کو انسانیت کو بچانے کی عظیم جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ نے یزیدیت کے خلاف قیام کرکے اپنے خون سے ایک زندہ انقلاب برپا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امام حسینؑ کی قربانی اسلام اور انسانیت پر ایک عظیم احسان ہے۔ ولادت امام حسینؑ کے موقع پر انہوں نے عالم انسانیت کو مبارکباد پیش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ امام حسین کی قربانی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان