ایران کے اسلامی انقلاب میں تودہ پارٹی کی شمولیت: ایک تاریخی و فکری مغالطہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: امام خمینیؒ کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح اور دو ٹوک تھا۔ آپؒ نے بارہا فرمایا کہ اسلامی انقلاب خالص اسلامی ہے اور کسی لادینی نظریے کے ساتھ اس کا کوئی سمجھوتہ نہیں۔ مارکسزم اور کمیونزم کو آپؒ نے اسلامی معاشرے کے لیے فکری طور پر خطرناک قرار دیا۔ یہ بیانات محض وقتی سیاسی حکمتِ عملی نہیں تھے بلکہ انقلاب کی نظریاتی روح کی ترجمانی کرتے تھے۔ تحریر: سید انجم رضا
ایران کا اسلامی انقلاب بیسویں صدی کی تاریخ کا وہ عظیم اور منفرد واقعہ ہے جس نے نہ صرف ایک صدیوں پر محیط بادشاہی نظام کا خاتمہ کیا بلکہ عالمی استکبار، استعمار اور لادینی نظریات کو بھی ایک واضح چیلنج دیا۔ اس انقلاب کی کامیابی کے بعد سے آج تک اس کی نوعیت اور کردار کے بارے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں اور دانستہ تحریفات سامنے آتی رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ دعویٰ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب میں تودہ پارٹی بھی شامل تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مؤقف تاریخی حقائق، فکری اصولوں اور عملی شواہد کی روشنی میں ایک واضح مغالطہ ثابت ہوتا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تودہ پارٹی کیا تھی اور اس کا فکری پس منظر کیا تھا۔ تودہ پارٹی ایران کی ایک کمیونسٹ جماعت تھی جو مارکسزم اور لینن ازم سے متاثر تھی۔ اس جماعت کا نظریہ بنیادی طور پر مادیت، الحاد اور طبقاتی جدوجہد پر مبنی تھا۔ مذہب کو سماجی شعور کی ترقی میں رکاوٹ اور عوام کو بے خبر رکھنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تودہ پارٹی کی فکری ساخت اسلام، تشیع اور دینی قیادت کے بالکل برعکس تھی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عوام کی اکثریت دینی اقدار اور اہلِ بیتؑ سے گہری وابستگی رکھتی ہو، وہاں ایسے نظریے کی جڑیں مضبوط ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔
اس کے برعکس ایران کے اسلامی انقلاب کی فکری بنیاد اسلام پر استوار تھی۔ یہ انقلاب نہ کسی وقتی سیاسی اتحاد کا نتیجہ تھا اور نہ ہی محض معاشی محرومیوں کا ردِعمل، بلکہ یہ ایک گہری دینی بیداری اور شعوری تحریک تھی۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں علماء، طلبہ، تاجر، مزدور، خواتین اور نوجوان سب ایک ایسے مقصد کے لیے میدان میں آئے جس کا محور اسلام تھا۔ مساجد، حسینیات، مجالسِ عزا اور دینی اجتماعات انقلاب کی روح بنے۔ عاشورا اور کربلا کا فلسفہ ظلم کے خلاف قیام اور حق کی سربلندی کا عملی درس دے رہا تھا، جو عوامی تحریک میں واضح طور پر جھلکتا تھا۔
اسلامی انقلاب کے نعروں پر نظر ڈالیں تو حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ’’استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی‘‘ اور ’’نہ مشرق، نہ مغرب‘‘ جیسے نعرے اس بات کا اعلان تھے کہ یہ تحریک نہ سرمایہ دارانہ مغرب کی تابع ہے اور نہ کمیونسٹ مشرق کی۔ تودہ پارٹی چونکہ سوویت یونین سے فکری اور سیاسی طور پر قریب تھی، اس لیے اس کا وجود خود اس نعرے کی نفی تھا۔ اگر انقلاب میں واقعی تودہ پارٹی کا کوئی مؤثر کردار ہوتا تو “نہ مشرق، نہ مغرب” کا تصور کبھی مرکزی نعرہ نہ بنتا۔
یہ بات درست ہے کہ شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد کے دوران مختلف سیاسی گروہ متحرک ہوئے، مگر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ انقلاب کی قیادت اور سمت کا تعین کون کر رہا تھا۔ قیادت امام خمینیؒ کے پاس تھی، جن کی ایک آواز پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے۔ تودہ پارٹی نہ عوامی قیادت فراہم کر سکی، نہ ہی اس کے پاس ایسا بیانیہ تھا جو عوام کے دلوں میں جگہ بنا سکتا۔ وہ زیادہ تر ایک حاشیائی گروہ کی حیثیت رکھتی تھی جو بدلتے حالات میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انقلاب کے بعد کے حالات اس غلط فہمی کو مکمل طور پر رد کر دیتے ہیں۔ اسلامی نظام کے قیام کے بعد تودہ پارٹی نے ریاستی اداروں میں دراندازی اور خفیہ نیٹ ورکس قائم کرنے کی کوشش کی۔ جب اس کے سوویت یونین سے روابط اور جاسوسی سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے تو اسلامی جمہوریہ ایران نے سخت اقدامات کیے۔ 1983ء میں تودہ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی، اس کی قیادت کو گرفتار کیا گیا اور اسے اسلامی نظام کا دشمن قرار دیا گیا۔ یہ سب کچھ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تودہ پارٹی انقلاب کی شریک نہیں بلکہ انقلاب کے بعد خود اسی نظام کے خلاف سرگرم تھی۔
امام خمینیؒ کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح اور دو ٹوک تھا۔ آپؒ نے بارہا فرمایا کہ اسلامی انقلاب خالص اسلامی ہے اور کسی لادینی نظریے کے ساتھ اس کا کوئی سمجھوتہ نہیں۔ مارکسزم اور کمیونزم کو آپؒ نے اسلامی معاشرے کے لیے فکری طور پر خطرناک قرار دیا۔ یہ بیانات محض وقتی سیاسی حکمتِ عملی نہیں تھے بلکہ انقلاب کی نظریاتی روح کی ترجمانی کرتے تھے۔
درحقیقت تودہ پارٹی کی شمولیت کا تصور اس لیے پھیلایا جاتا ہے تاکہ اسلامی انقلاب کو ایک نظریاتی طور پر کمزور اور غیر واضح تحریک کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اس طرح انقلاب کی دینی حیثیت کو مشکوک بنا کر نوجوان نسل میں فکری انتشار پیدا کیا جاتا ہے۔ مگر تاریخ، عوامی شعور اور عملی واقعات سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایک خالص دینی، عوامی اور اسلامی تحریک تھی۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ تودہ پارٹی نہ اسلامی انقلاب کی خالق تھی، نہ اس کی شریکِ قیادت اور نہ ہی اس کے فکری دھارے کا حصہ۔ وہ ایک ناکام، موقع پرست اور لادینی جماعت تھی جسے انقلاب نے خود مسترد کر دیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ اسی میں انقلاب کی اصل روح اور اس کا عالمی پیغام مضمر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے اسلامی انقلاب ہے کہ تودہ پارٹی تودہ پارٹی کی کہ انقلاب انقلاب کی کے لیے کے بعد اور اس
پڑھیں:
اسلامی اقدار اور جدید دور
آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔