لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں کر رہے،شرجیل میمن WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز

کراچی(سب نیوز)پیپلز پارٹی کے رہنما و سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کیا 18 ویں ترمیم ختم کرنے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہوں گے؟ سانحہ گل پلازہ کو افسوسناک اور دردناک سمجھتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر پاکستانی اس پر افسردہ و غمزدہ ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ گل پلازہ کے واقعہ سے جان نہیں چھڑارہے اورنہ چھڑانا چاہتے ہیں، سمجھتے ہیں لواحقین کے نقصان کا ازالہ نہیں ، 18ویں ترمیم آئینی طریقہ کار سے آئی، خواجہ آصف نے جو بیان دیا وہی آج مصطفی کمال نے دیا، پتہ نہیں اس واقعہ پر ایسے بیانات کے پیچھے ان کا مقصد کیا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ کوئی حادثہ ہوجائے تو 18ویں ترمیم درمیان میں لے آتے ہیں، ایسے واقعات پر 18ویں ترمیم کا ذکر کم عقلی ہی ہوسکتی ہے، مصطفی کمال 12مئی کا دفاع کررہے تھے تو ان کو خود کہاں ہونا چاہئے؟ آپ نے مخالفین کو دھمکیاں دیں، 12مئی میں یہ خود ملوث تھے، شاہراہ بھٹو کی لائٹیں کس کے کہنے پر بند کی گئیں؟۔انہوں نے کہا کہ کراچی ایک میٹروپولیٹن سٹی ہے، کراچی کی آبادی صحیح گنی جائے تو3کروڑ سے زیادہ ہے، اسد قیصر کے صوبے میں ہر چیز ٹھیک تو لوگ وہاں سے کاروبار کیلئے یہاں کیوں آتے ہیں؟ پورے پاکستان میں پورٹ ایک ہی ہے اوروہ کراچی میں ہے، پورے پاکستان سے ہیوی ٹریفک کراچی پورٹ پر ہی آتی ہے، کراچی کو سب سے زیادہ سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ چند شرارتی لوگ گل پلازہ واقعہ کے موقع پر بیانات دے رہے ہیں، کوئی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر 18ویں ترمیم کی بات کررہا ہے، آتشزدگی کے واقعہ پر بیانات دینے والے لوگ موقع پرست ہیں، یہ خود کو کراچی کا نام نہاد دعویدار کہتے ہیں، یہ خود وفاقی وزیر صحت ہیں، آکر پوچھا کہ کیا مدد کرسکتا ہوں؟ اس وقت کہاں غائب ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ یہ عہدوں کیلئے اپنے قائد کے سامنے جی بھائی جی بھائی کرتے تھے، جب لوگوں کی جانیں لی جارہی تھیں کیوں خاموش تھے، آپ 12مئی اوربلدیہ فیکٹری واقعے پر کیوں خاموش تھے، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں، یہ صاحب خود بھی میئر کراچی تھے، مریضوں سے نامناسب الفاظ استعمال کرتیتھے، اس طرح کے لوگ قائد بھی بدلتے رہتے ہیں۔صوبائی سینئر وزیر نے کہا کہ مصطفی کمال کی ایک ایک بات کا منہ توڑ جواب میرے پاس موجود ہے، ہم اس وقت ان کے ٹریک پر نہیں چلنا چاہتے، میں آج سیاسی بیان بازی نہیں کرنا چاہتا، بہادرآباد اورپی ایس پی کی آپسی لڑائیوں سے ہمارا واسطہ نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ ان کے پاس کوئی آگ پر قابوپانے کی ٹیکنالوجی تھی تو ان کو نہیں روکا تھا، ہم نے کسی کو منع نہیں کیا کہ گل پلازے پر کام نہ کریں، ساری دنیا آگ دیکھتی رہی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربورڈ آف پیس میں یورپ شامل نہ ہوا مگر شہباز شریف قاتل نتین یاہو کیساتھ مشاورت کرینگے، فضل الرحمان بورڈ آف پیس میں یورپ شامل نہ ہوا مگر شہباز شریف قاتل نتین یاہو کیساتھ مشاورت کرینگے، فضل الرحمان اپوزیشن کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر اعتماد میں لینے کا مطالبہ ایم کیو ایم کا کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے، 18ویں ترمیم ختم کرنے کا مطالبہ گرین لینڈ ہمارا مسئلہ نہیں، امریکا اور ڈنمارک خود نمٹ لیں، پیوٹن برطرف اور ڈیلی ویجر ملازمین سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں، چیف الیکشن کمشنر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا کراچی کو وفاق 18ویں ترمیم نے کہا کہ گل پلازہ

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ

آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔

ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے