ویوز کےلیے بیٹی کو استعمال کرنے پر فضا علی پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
پاکستانی کلینیکل ماہرِ نفسیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ماہین انوری نے اداکارہ اور میزبان فضا علی کے حوالے سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان کے پیرنٹنگ انداز پر سخت تنقید کی ہے۔
ماہین کا کہنا ہے کہ والدین کی جانب سے بچوں کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنا مستقبل میں ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
فضا علی انسٹاگرام پر اپنی روزمرہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنی دس سالہ بیٹی فرال فواد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہیں۔
حالیہ دنوں ماہین انوری نے اپنے اکاؤنٹ پر فضا علی اور ان کی بیٹی کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس رجحان کو دیکھ کر شدید مایوسی محسوس کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق والدین، خصوصاً مائیں، ویوز اور توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی کمسن بچیوں کو سامنے لا رہی ہیں جو تشویش ناک ہے۔
ماہرِ نفسیات نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ایک مثال بھی دی اور بتایا کہ پندرہ سالہ لڑکی، جس سے انہوں نے بات کی، اپنی والدہ کے رویے کے باعث ذہنی دباؤ اور مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی معصومیت کو سوشل میڈیا مواد بنانے سے گریز کریں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے فضا علی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سوچنا چاہیے کہ اس طرزِ عمل سے بچوں کو کس حد تک گہرے نفسیاتی اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی جہاں کچھ صارفین نے بچوں کے تحفظ پر بات کرنے پر ماہرِ نفسیات کو سراہا، جبکہ دیگر افراد اداکارہ فضا علی کے حق میں سامنے آئے اور ان کے مؤقف کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا فضا علی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔