لاہور قلندرز کی ملکیت کا تنازع: فواد رانا نے بھائیوں کے خلاف تاریخی کیس جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
لاہور قلندرز کے بانی اور QALCO کے سربراہ فواد رانا نے اپنے چھوٹے بھائیوں عاطف رانا اور ثمین رانا کے خلاف طویل قانونی جنگ کے بعد تاریخی فتح حاصل کر لی ہے۔ ثالثی ٹریبونل نے فیصلہ دیا کہ فواد رانا کے شیئرز ان کے بھائیوں نے فراڈ کے ذریعے ہتھیائے تھے۔
ٹریبونل کی سربراہی جسٹس (ر) مقبول باقر نے کی، جنہوں نے واضح کیا کہ فواد رانا، ملک میں موجود نہیں تھے جب ان کے بھائیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے حقوق سے دستبرداری پر دستخط کر دیے تھے۔
مزید پڑھیں: لاہور قلندرز کی ایک اور فتح: ’یہ ماننا پڑے گا کہ شاہین کو کپتانی آتی ہے‘
فیصلے کے مطابق، عاطف اور ثمین رانا کے پاس 45 دن کی سخت مہلت ہے، جس میں انہیں یا توQALCO کو 51 فیصد شیئرز واپس کرنا ہوں گے، تاکہ فواد رانا کو مکمل انتظامی کنٹرول مل سکے، یا 2.
ٹریبونل نے ایک خفیہ سودا بھی بے نقاب کیا، جس میں بھائیوں نے فواد کی اجازت کے بغیر 30 فیصد شیئرز کسی ’مسٹر نیازی‘ کو 5 ملین ڈالر میں فروخت کیے تھے، جس کا حساب بھی پیش کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: لاہور کو 3 ٹرافیاں جتوا دیں، اب پاکستان کے لیے کپ جیتنے کی کوشش کروں گا، شاہین آفریدی
کرکٹ مداح فواد رانا کو لاہور قلندرز کا دل سمجھتے ہیں، جنہوں نے ٹیم کا برانڈ اور مشہور پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام قائم کیا، جس سے حارث رؤف جیسے اسٹار کھلاڑی سامنے آئے۔
اگرچہ عاطف اور ثمین رانا اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فتح فواد کو دوبارہ ٹیم کے کنٹرول کی کلید دیتی ہے۔ اب باضابطہ طور پر، لاہور قلندرز کے ’کنگ‘ کا بڑا کم بیک قریب آ چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس (ر) مقبول باقر عاطف اور ثمین رانا فواد رانا لاہور قلندرز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس ر مقبول باقر عاطف اور ثمین رانا فواد رانا لاہور قلندرز اور ثمین رانا لاہور قلندرز فواد رانا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔