سانحہ گل پلازا: مزید 2انسانی باقیات برآمد،لاشوں کی تعداد67ہوگئی،62کا پوسٹ مارٹم مکمل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازامیں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران ایک دکان سے مزید 2 انسانی باقیات برآمد کرلی گئیں، جس کے بعد عمارت کے ملبے سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 67 ہوگئیں جب کہ 62 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔
سانحہ گل پلازاکے بعد جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے لاشوں اور انسانی باقیات کے ڈی این اے سیمپلز لینے کا عمل جاری ہے، جہاں مزید 2 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے، جس کے بعد اب تک شناخت کیے جانے والے افراد کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ ایک لاش کی شناخت دکان کے مالک ابوبکر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی شناخت ان کے بیٹے تاج نے ہاتھ میں موجود انگوٹھی اور گھڑی کی مدد سے کی جب کہ دوسری لاش کی شناخت دکان کے ملازم عامر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی تصدیق ڈیسک سی پی ایل سی کی جانب سے کی گئی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق آج مزید 5 انسانی باقیات کے ڈی این اے سیمپلز لے لیے گئے ہیں، آج مجموعی طور پر 17 انسانی باقیات کے سیمپلز لیے گئے ہیں اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باقیات جلی ہوئی ہیں، جس کے باعث نمونے لینے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
پولیس سرجن کے مطابق لاشوں اور انسانی باقیات کے مجموعی ڈی این اے سیمپلز کی تعداد 67 تک پہنچ چکی ہے، اب تک نکالی جانے والی 67 لاشوں اور انسانی باقیات میں سے 62 کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ تیار کرلی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں، ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی۔
تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آرٹیفیشل دکان مالک کے 2 بیٹے ایک دوسرے پر ماچس سے آگ پھیک رہے تھے، ایک بچے نے آگ کی تیلی پھینکی دوسرا بچہ اس سے بچ کر سائڈ ہوگیا، ماچس کی تیلی نیچے گری جہاں کیمکل موجود تھا اور آگ بھڑک اٹھی، برابر والی دکان سے ایک شخص نے آکر آگ پر قابو پایا مگر آگ دوبارہ بھڑکی اور اے سی کی لائن میں چلی گئی دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پورے گل پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تفتیشی ذرائع نے کہا کہ حادثے کے وقت گل پلازہ کے بیشتر دروازے بند تھے، آمد و رفت کا ذریعہ صرف دو دروازے تھے، آتشزدگی کے دوران اندر پھنسے لوگوں نے دروازہ توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے 2 مختلف مقامات سے نمونے جمع کیے، 3 نمونے مصنوئی پھولوں کی دکان سے جمع کیے گئے اور 3 سمپلز گل پلازہ کے دیگر مختلف مقامات سے جمع کیے گئے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق لاشوں کا کیمیائی تجزیہ کروانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، کیمیائی تجزیے سے مختلف اعضا پر موجود زخموں کی جانچ کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسانی باقیات کے کی شناخت کے مطابق گل پلازہ کے بعد گیا ہے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔