جنوبی کوریا؛ مارشل لا کیس میں صدر کے بعد سابق وزیرِاعظم کو بھی قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے دسمبر 2024 میں نافذ کیے گئے مارشل لا کو بغاوت قرار دیتے ہوئے اُس وقت کے وزیرِاعظم ہان ڈک سو کو 23 سال قید کی سزا سنا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مارشل لا کے نفاذ پر اُس وقت کے صدر یون سک یول کو بھی سزا سنائی جا چکی ہے۔
سابق صدر یون سک یول نے ہی وزیراعظم ہان ڈک سو کو نامزد کیا تھا اور جب مارشل لا کا حکم دیا تو ہان ڈک سو اُسے بغیر ہچکچاہٹ کے فوری طور پر بجا لائے تھے۔
وزیراعظم ہان ڈک سو نے مارشل لا بحران کے دوران قائم مقام قیادت کرنے والے تین اہم عہدیداروں میں سب سے اہم کردار تھے۔
ڈسٹرکٹ کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سابق صدر کی جانب سے پارلیمنٹ اور انتخابی دفاتر میں فوج اور پولیس کی تعیناتی ایک "خود ساختہ بغاوت" کے مترادف تھی جس کا مقصد آئینی نظام کو کمزور کرنا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے اقدامات کے باعث ملک ایک بار پھر اُس تاریک دور کی طرف جا سکتا تھا جہاں عوامی حقوق پامال اور جمہوری نظام دب چکا تھا۔
یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کی اُس وقت کی انتظامیہ کے کسی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف بغاوت کے الزام میں یہ پہلی سزا ہے۔
استغاثہ نے سابق وزیراعظم کے لیے 15 سال قید کی سزا کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے زیادہ سخت سزا سنائی۔
76 سالہ ہان اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ مارشل لا کے منصوبے کے مخالف تھے۔
خیال رہے کہ مارشل لا نافذ کرنے والے سابق صدر یون سک یول پہلے ہی کئی ماہ سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف بغاوت سمیت آٹھ فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
عدالت ان کے خلاف بغاوت کے مقدمے کا فیصلہ 19 فروری کو سنائے گی۔ استغاثہ نے سابق صدر کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ گرفتاری میں مزاحمت، مارشل لا اعلامیے میں جعلسازی اور کابینہ ارکان کو مشاورت سے روکنے کے جرم میں سابق صدر کو پہلے ہی 5 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قید کی سزا یون سک یول ہان ڈک سو مارشل لا کے خلاف
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :