data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) ماڈل کالونی میں سینئر صحافی شہاب سلمان پر قاتلانہ حملے اور اغوا کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے، متاثرہ صحافی کی اہلیہ شاہین شہاب نے تھانہ ماڈل کالونی میں مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں سیاسی جماعت کے عہدیداروں سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے،پولیس نے سینئر صحافی شہاب سلمان کو گرفتار کرلیا، کراچی پریس کلب کے صدر ودیگر عہدیداران نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔درخواست کے مطابق شہاب سلمان نے ملیر توسیعی کالونی میں بس ٹرمینل پر قبضے کے خلاف پیشہ ورانہ ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے قبضہ مافیا کو بے نقاب کیا تھا۔ اس رنجش پر زاہد ظفر، نعیم عرف گڈو، ساجد ترمذی، عادل حفیظ اور فہیم اجمیری نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔گزشتہ شب مسلح افراد نے ہوٹل پر موجود صحافی کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ شہاب سلمان نے اپنے دفاع میں لائسنس یافتہ پستول سے ہوائی فائرنگ کی اور پولیس موبائل سے پناہ مانگی، تاہم شرپسند عناصر نے مبینہ طور پر پولیس کی موجودگی میں بھی ان پر تشدد کیا۔علاوہ ازیںکراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے پریس کلب کے سینئر ممبر شہاب سلمان پر حملے کی کوشش اور بعد ازاں ان کی گرفتاری کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شہاب سلمان کی کوشش

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک